معرفت تخلیق
Urdu book, p. 92
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ قدیم زمانے میں صرف بادشاہوں کے حالات یا جنگ اور فتح کے واقعات قابل ذکر سمجھے جاتے تھے۔ چوں کہ پچھلے پیغمبروں کے ساتھ اس طرح کے سیاسی واقعات جمع نہیں ہوئے، اسی لیے قدیم مورخین نے پیغمبر کو تاریخی طور پر قابلِ ذکر نہیں سمجھا۔ آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بڑے بڑے سیاسی واقعات پیش آئے، اس لیے آپ کے ہم عصر مورخین نے آپ کے ظہور کو ایک تاریخی واقعہ کی حیثیت دی اور اپنی کتابوں میں ایک واقعہ کے طور پر اس کا اندراج کیا۔ خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے، سب ایک ہی پیغام لے کر آئے اور وہ توحید کا پیغام تھا، یعنی انسان کو چاہیے کہ وہ ایک خدا کا عابد بن کر دنیا میں زندگی گزارے۔ لیکن پچھلے پیغمبروں میں سے کسی پیغمبر کے ساتھ کوئی مضبوط ٹیم جمع نہ ہوسکی، اس لیے ہر پیغمبر کا مشن عملاً توحید کے اعلان (announcement) کے درجے تک پہنچا، وہ توحید پر مبنی انقلاب کے درجے تک نہ پہنچ سکا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تاریخ غیر موحدانہ آئیڈیالوجی پر چلتی رہی، تاریخ کا سفر موحدانہ آئیڈیالوجی پر جاری نہ ہوسکا۔ خدا کی یہ سنت ہے کہ وہ دعوت کے لیے اٹھنے والوں کی تائید فرماتا ہے۔ پچھلے پیغمبروں کو اس مقصد کے لیے جو تائید دی گئی، وہ معجزہ (miracle) تھا۔ مثلاً حضرت موسیٰ کو یہ معجزہ کہ اُن کا عصا ایک زندہ سانپ بن کر زمین پر چلنے لگا۔ مگر اس طرح کے خارق عادت معجزات کے باوجود لوگ پیغمبر کی دعوت کو قبول کرنے پر راضی نہ ہوسکے، معجزہ کو انھوں نے جادو (magic) قرار دے کر رد کر دیا۔ نئی منصوبہ بندی خالق کا وجود ایک ناقابلِ مشاہدہ وجود ہے۔ اس کے مقابلے میں، مخلوق ایک قابلِ مشاہدہ چیز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس بنا پر تاریخ کے آغاز ہی سے ایسا ہوا کہ انسان، مخلوق پرستی یا فطرت پرستی (nature worship) میں مبتلا ہو گیا۔ عبودیت کے فطری جذبات جو خالق کے لیے تھے، اُس کو انسان نے مخلوق کے ساتھ وابستہ کر دیا۔ قرآن کی ایک آیت میں اس حقیقت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: رَبِّ إنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيراً (14:36) یعنی جو چیزیں انسان کو زیادہ نمایاں دکھائی دیں، اُن کو اُس نے خدائی کا درجہ دے کر پوجنا شروع کر دیا۔ مثلاً سورج، چاند، ستارہ، پہاڑ اور سمندر، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader