Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت تخلیق

Urdu book, p. 93

By Maulana Wahiduddin Khan

اِس طرح تاریخ میں انسان کبھی عمومی طور پر مذہبِ توحید کو اختیار نہ کر سکا۔ تمام انسانی آبادیوں میں ایک ہی مذہب رائج ہوا، اور وہ مظاہر پرستی کا مذہب تھا۔ اِسی مظاہر پرستی کو قرآن میں شرک یا مشرکانہ مذہب کا نام دیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ نسل در نسل جاری رہا، یہاں تک کہ شرک کی روایات تاریخ کے تسلسل میں شامل ہوگئیں۔ اِسی واقعہ کو قرآن کی ایک آیت میں، اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ولا يلدوا إلا فاجراً كفاراً (71:27)۔ اِسی تاثر پذیری کو موجودہ زمانے میں کنڈیشنگ (conditioning) کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں ہر پیدا ہونے والا مشرکانہ روایات کے ماحول میں پیدا ہوتا تھا اور دھیرے دھیرے وہ اُسی میں پختہ ہو جاتا تھا۔ اِس طرح ہر انسان کنڈیشنگ (conditioning) کا کیس بن گیا۔ اِسی کنڈیشنگ کی طرف ایک حدیث میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، أَوْ يُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385)۔ حضرت ابراہیم بن آزر (وفات 1985: ق م) قدیم عراق میں پیغمبر بنا کر بھیجے گئے۔ اُن کی غیر معمولی دعوتی کوشش کے باوجود ان کی قوم انکار کی روش پر قائم رہی۔ اُن کے زمانے تک یہ واضح ہوگیا کہ مجرد دعوت یا انذار و تبشیر لوگوں کی مشرکانہ کنڈیشنگ کو توڑنے کے لیے کافی نہیں۔ نسل در نسل کے روایتی تسلسل نے لوگوں کے ذہن کو شرک پر اتنا زیادہ پختہ کر دیا ہے کہ اب اُن کے ذہنی شاکلہ (framework) کو توڑنے یا ان کی ڈی کنڈیشنگ کرنے کے لیے ایک اور انقلابی منصوبہ درکار ہے۔ یہی وہ خدائی فیصلہ تھا جس کے تحت ہاجرہ اور اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسایا گیا۔ خدا کے حکم سے حضرت ابراہیم اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے چھوٹے بیٹے اسماعیل کو لے کر فرشتہ جبرئیل کی رہنمائی میں شام سے نکلے۔ جب بھی وہ راستے میں کسی بستی سے گزرتے تو وہ جبرئیل سے پوچھتے کہ اے جبرئیل، کیا مجھ کو یہاں ٹھہرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جبرئیل کہتے کہ نہیں۔ اِس طرح چلتے ہوئے وہ موجودہ مکہ کے مقام پر پہنچے۔ اُس وقت یہاں کوئی آبادی نہ تھی، صرف صحرا تھا یا خشک پہاڑ۔ بالآخر جبرئیل کے حکم سے حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی اور اپنے چھوٹے بچے اسماعیل کو یہاں بسا دیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page