معرفت تخلیق
Urdu book, p. 94
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت ابراہیم جب اس طرح ہاجرہ کو چھوڑ کر وہاں سے جانے لگے تو ہاجرہ نے پوچھا کہ آپ ہم کو اس صحرا (desert) میں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں۔ ہاجرہ نے کئی بار پوچھا، مگر حضرت ابراہیم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آخر میں ہاجرہ نے کہا کہ کیا آپ کو اللہ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے (اللہ آمرک بهذا) حضرت ابراہیم نے کہا کہ ہاں۔ یہ سن کر ہاجرہ نے کہا: اِذْن لَا يُضَيِّعُنَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3364) یعنی پھر اللہ ہم کو ضائع نہیں کرے گا۔ یہ واقعہ چار ہزار سال پہلے عرب کے صحرا میں پیش آیا۔ اس کے بعد تحریک توحید کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ اس نئے دور کو ایک جملے میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے ایک ایسی قوم تیار کرنا جو مشرکانہ ماحول کی کنڈیشنگ سے پاک ہو۔ یہ مقام جہاں ہاجرہ اپنے چھوٹے بچے کو لے کر آباد ہوئیں، وہ متمدن شہروں سے بہت دور تھا۔ یہاں دن کے وقت صحرا اور پہاڑ اور سورج دکھائی دیتے تھے اور رات کے وقت چاند اور ستارے نظر آتے تھے۔ اس طرح ایک بے آمیز ماحول میں توالد و تناسل کے ذریعے ایک نئی نسل بننا شروع ہوئی، جو تاریخ میں بنو اسماعیل کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس نسل کی پرورش ایک انتہائی سادہ اور غیر متمدن ماحول میں ہوئی۔ اس بنا پر وہ مشرکانہ ماحول کی کنڈیشنگ سے محفوظ رہی۔ عام طور پر مورخین اس نسل کو ایک منفرد نسل کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہیں۔ اس نسل کے افراد میں انسانی اوصاف اعلیٰ درجے میں موجود تھے۔ قدیم عرب ان اوصاف کو ’المروءۃ‘ کہتے تھے۔ زیادہ درست طور پر اس کو ’الفطرۃ‘ کہا جا سکتا ہے۔ اُس دور کے بنو اسماعیل کی ان غیر معمولی صفات کی بنا پر ایک مغربی اسکالر نے اُن کو ہیروز کی قوم (a nation of heroes) کا نام دیا ہے۔ ہاجرہ اور اسماعیل کے لیے یہ صحرائی زندگی غیر معمولی قربانی کی حیثیت رکھتی تھی۔ یہ قربانی کسی میدان جنگ میں لڑ کر مر جانے سے ہزاروں گنا زیادہ بڑی قربانی تھی۔ اسی لیے قرآن میں اُس کو ذبح عظیم (107: 37) کہا گیا ہے، یعنی عظیم قربانی۔ قرآن کی اس آیت میں ذبح عظیم سے مراد مینڈھے کا ذبیحہ نہیں، بلکہ وہ خود اسماعیل کا ذبیحہ ہے۔ چار ہزار سال پہلے حضرت اسماعیل کا بے آب و گیاہ صحرا میں آباد ہونا بلاشبہہ ایک عظیم ترین قربانی کا درجہ رکھتا تھا، جسمانی معنوں میں نہیں، بلکہ روحانی معنوں میں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader