Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت تخلیق

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

آخری رسول کا ظہور پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعتبار سے، دوسرے رسولوں کی طرح ایک رسول تھے، آپ کی مزید صفت یہ تھی کہ اسی کے ساتھ آپ خاتم النبیین (33:40) تھے۔ خاتم النبیین کا مطلب صرف یہ نہیں کہ آپ پیغمبروں کی لسٹ کے آخری فرد تھے، پیغمبرِ اسلام کی اصل حیثیت یہ ہے کہ آپ دو دوروں کے درمیان حد فاصل (line of demarcation) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کے اوپر دعوتِ توحید کا ایک دور ختم ہوا۔ آپ کے بعد دوسرے دورِ دعوت کا آغاز ہوا جو قیامت تک مختلف صورتوں میں جاری رہے گا۔ یہاں سوال یہ ہے کہ ختم رسالت کے باوجود انسانی نسل کا سلسلہ برابر جاری ہے، پھر آپ کے بعد آنے والی نسلوں کی پیغمبرانہ ہدایت کی صورت کیا ہو۔ اس کا جواب قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے: عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا (17:79)۔ قرآن کی اس آیت میں ’’مقام محمود‘‘ سے مراد کوئی پراسرار مقام نہیں ہے، بلکہ ایک معلوم مقام ہے۔ اس کا مطلب ہے بی تاریخی طور پر مانا ہوا پیغمبر (historically acknowledged prophet)۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو پیغمبر آئے، اُن کی پیغمبرانہ حیثیت کا تعلق دنیا میں ان کی جسمانی موجودگی سے تھا۔ اُن کی وفات کے بعد اُن پر یقین کرنے کے لیے تاریخی شہادت درکار تھی، مگر تاریخی ریکارڈ میں ان کا حوالہ موجود نہ تھا، اس لیے بعد کی نسلوں کے لیے اُن کی حیثیت تاریخی اعتبار سے، ایک غیر تسلیم شدہ پیغمبر کی ہو گئی۔ جب آدمی زندہ موجود نہ ہو تو صرف تاریخ اس کی زندگی کا ثبوت ہوتی ہے۔ اس بنا پر یہ ہوا کہ انبیائے سابقین اپنی بعد کی نسلوں کے لیے خالص تاریخی اعتبار سے، ہدایت کے مستند مرجع (authentic reference) کی حیثیت سے باقی نہ رہے۔ مثال کے طور پر مشہور برٹش فلسفی برٹرنڈ رسل (وفات 1970) نے اپنی کتاب میں مسیحی کیوں نہیں (Why I am not a Christian) میں حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں لکھا ہے کہ تاریخی اعتبار سے یہ امر مشتبہ ہے کہ مسیح کا کبھی وجود بھی تھا: Historically, it is quite doubtful whether Christ ever existed at all.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page