Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت تخلیق

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام محمود پر کھڑا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ساتھ ایسے اسباب اکٹھا کئے جائیں کہ آپ کو تاریخی طور پر ایک مسلم پیغمبر کی حیثیت حاصل ہو جائے ، تا کہ آپ اپنی وفات کے بعد آنے والی نسلوں کے لیے بھی اُسی طرح قابل حوالہ پیغمبر کی حیثیت سے باقی رہیں، جیسا کہ آپ اپنی زندگی میں ایک قابل حوالہ پیغمبر کی حیثیت رکھتے تھے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم واحد پیغمبر ہیں جن کی زندگی اور مشن کے بارے میں مکمل تاریخی ریکارڈ موجود ہے۔ اسی مسلمہ تاریخی ریکارڈ کو قرآن میں مقام محمود کہا گیا ہے۔ یہی ختم نبوت کی سب سے بڑی شہادت ہے۔ جب ایک پیغمبر کی زندگی اور اس کے مشن سے متعلق تمام تفصیلات قابلِ اعتماد صورت میں لکھی ہوئی محفوظ ہو جائیں، تو اس کے بعد یہ مستند تاریخی ریکارڈ پیغمبر کا قائم مقام بن جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ ضرورت باقی نہیں رہتی کہ دوسرا پیغمبر آئے۔ اصحاب رسول کا دور مشہور صحابی رسول عبد اللہ بن مسعود کی ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: اِنَّ اللَّهَ تَعَالَى نَظَرَ فِي قُلُوْبِ الْعِبَادِ فَاخْتَارَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ، وَانْتَخَبَهُ بِعِلْمِهِ، ثُمَّ نَظَرَ فِي قُلُوْبِ النَّاسِ فَاخْتَارَ اَصْحَابَهُ فَجَعَلَهُمْ وُزَرَاءَ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاَنْصَارَ دِيْنِهِ (معجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر (8583) ۔ یعنی اللہ نے بندوں کے دلوں کو دیکھا، پس اُس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چن لیا۔ پیغمبری کے لیے آپ کی بعثت فرمائی اور آپ کو اپنے علم کے مطابق منتخب کر لیا۔ اس کے بعد اللہ نے لوگوں کے دلوں کو دیکھا، اور رسول اللہ کے لیے آپ کے اصحاب کو چن لیا۔ اُن کو اپنے نبی کا وزیر بنایا، اور اپنے دین کا مددگار۔ اس روایت سے اور اس طرح کی دوسری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب رسول ایک منتخب گروہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ یہ اصحاب رسول کون لوگ تھے۔ یہ بنواسماعیل کی اُس نسل میں پیدا ہونے والے افراد تھے جو خصوصی منصوبہ کے تحت، عرب کے صحرا میں تیار کئے گئے۔ ان کے اندر استثنائی طور پر وہ انسانی کردار موجود تھا جو دعوت توحید کی بنیاد پر ایک ٹیم بنانے کے لیے درکار تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page