امید کا پیغام
Urdu book, p. 184
By Maulana Wahiduddin Khan
امید کا پیغام قرآن میں بعض انسانی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس طرح کی ناموافق صورت پیش آئے تو صبر اور توکل کا انداز اختیار کرو۔ اللہ تمہارا نگہبان ہے، وہ تمہارے لیے مشکل کے بعد آسانی پیدا کردے گا (سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا) 7: 65۔ جس طرح ہماری زمین مسلسل گردش کر رہی ہے، اسی طرح انسان کے حالات بھی برابر بدلتے رہتے ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ کسی بھی حال میں مایوس نہ ہو، وہ ہمیشہ ناامیدی پر امید کے پہلو کو غالب رکھے ۔ حال کی بنیاد پر وہ کبھی مستقبل کے بارے میں اپنے یقین کو نہ کھوئے۔ رات کے آنے کو اگر ” آج “ کے لحاظ سے دیکھا جائے تو وہ اندھیرے کا آنا معلوم ہوگا، مگر ” کل “ کے لحاظ سے دیکھیے تو وہ روشن صبح کے آنے کی تمہید بن جاتا ہے۔ خزاں کا موسم بظاہر پت جھڑ کا موسم دکھائی دیتا ہے۔ مگر مستقبل کی نظر سے دیکھیے تو وہ بہار کے سرسبز وشاداب موسم کی خبر دینے لگے گا۔ یہ قدرت کا اٹل قانون ہے۔ یہ قانون عام مادی دنیا کے لیے بھی ہے، اور اسی طرح انسانوں کی زندہ دنیا کے لیے بھی۔ اس میں کبھی کوئی تبدیلی ہونے والی نہیں۔ جب دنیا کی تخلیق اس ڈھنگ پر ہوئی ہے تو کوئی انسان اس دنیا میں مایوس کیوں ہو ۔ جب یہاں ہر تاریکی آخر کار روشنی بننے والی ہے تو وقتی حالات سے گھبرانے کی کیا ضرورت ۔ آدمی اگر یہاں کسی مشکل میں پھنس جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ صبر اور حکمت کے ساتھ اس سے نکلنے کی جدوجہد کرے۔ اگر بالفرض اس کے پاس جدوجہد کرنے کی طاقت نہ ہوتب بھی اس کو چاہیے کہ وہ خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے آنے والے کل کا انتظار کرے ۔ اس دنیا میں جس طرح محنت ایک عمل ہے، اسی طرح انتظار بھی ایک عمل ہے۔ جو شخص عمل کا ثبوت نہ دے سکے، اس کو چاہیے کہ وہ انتظار کا ثبوت دے۔ اگر اس نے سچا انتظار کیا تو عین ممکن ہے کہ وہ انتظار کے ذریعہ بھی اسی چیز کو پالے جس کو دوسرے لوگ محنت کے راستہ سے تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ قدرت کا نظام خود اپنے آخری فیصلہ کو ظہور میں لانے کے لیے سرگرم ہے، بشرطیکہ آدمی مقرر وقت تک اس کا انتظار کر سکے۔ عربی کا ایک مقولہ ہے: رُبَّ ضَارَّةٍ نافعة ( بہت سی نقصان والی چیزیں نفع دینے والی ہوتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader