خدمت کا کرشمہ
Urdu book, p. 204
By Maulana Wahiduddin Khan
خدمت کا کرشمہ ریڈرز ڈائجسٹ (جون 1989) میں ایک چونکا دینے والی رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اس رپورٹ کو مرتب کرنے والے ایک ہندوستانی جرنلسٹ مسٹر اشوک مہادیون ہیں۔ وہ ہندوستان سے کراچی گئے اور وہاں قریب سے مطالعہ کرنے کے بعد اپنی مفصل رپورٹ مرتب کی جو مذکورہ ریڈرز ڈائجسٹ میں شائع ہوئی ہے۔ یہ کراچی کے ایک شخص کی کہانی ہے۔ اس کا نام عبدالستار ایدھی ہے۔ اس نے اپنی 40 سالہ خدمات کے نتیجہ میں اپنے ماحول کے اندر غیر معمولی عزت اور گرویدگی حاصل کی ہے۔ مسٹر مہادیون کے الفاظ میں، کراچی کے مجرم لوگ بھی ان کی عزت اور احترام کرتے ہیں۔ ایک بار ان کو معلوم ہوا کہ کراچی کے مضافات میں پولیس اور ڈاکوؤں کے گروہ کے درمیان گولی چل رہی ہے۔ وہ فوراً ایک ایمبولنس لے کر مقام واردات کی طرف روانہ ہو گئے۔ جیسے ہی وہ وہاں پہنچے، ڈاکوؤں نے ان کو دیکھ کر فائرنگ روک دی۔ ایدھی اس میں کامیاب ہو گئے کہ وہ ایک سب انسپکٹر کی لاش کو اٹھا کر اپنی گاڑی میں رکھ سکیں۔ ڈاکو اس دوران بے تابی کے ساتھ ایدھی کے جانے کا انتظار کرتے رہے اور ہاتھ کے اشارے سے انہیں واپس جانے کے لیے کہتے رہے۔ جیسے ہی وہ وہاں سے روانہ ہوئے، ڈاکوؤں نے دوبارہ پولیس کے اوپر فائرنگ شروع کر دی: Such feelings are shared even by Karachi`s criminals. Once, hearing that the police and a gang of dacoits were engaged in shoot-out in a city suhurb, Edhi drove to the scene in an ambulance. As soon as he arrived, the dacoits stopped firing, and Edhi was able to carry the body of a dead-inspector into his vehicle. The dacoits then impatiently waved Edhi away, and as he left, began shooting at the police again (pp. 116-17) ایک شخص کو یہ درجہ کیسے ملا کہ اس کو دیکھ کر ڈاکو کو بھی اپنی بندوقیں نیچی کر لیں۔ اس کا سبب یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader