ایک غلطی فہمی
Urdu book, p. 212
By Maulana Wahiduddin Khan
خلاف ورزی کی تلافی چلہ کے ذریعہ نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ ان کی حالت بگڑتی رہی۔ یہاں تک کہ پریشانی کے عالم میں وہ 1971ء میں ایک جیپ سے ٹکرا گئے اور سڑک ہی پر ان کا انتقال ہو گیا۔ زندگی میں ایک غلطی بھی سارے امکان کو برباد کر دیتی ہے اور آدمی کو ناکامی کے آخری کنارے پہلا دیتی ہے۔ یہی قاعدہ زندگی کے تمام معاملات کا ہے۔ یہاں ہر "نیم" کے ساتھ ایک کیڑا ہے۔ یہاں ہر معاملہ کے ساتھ اس کی ایک کمزوری لگی ہوئی ہے۔ آدمی کو ان کمزوریوں سے آخری حد تک محتاط رہنا ہے۔ وہ جس معاملہ میں بھی غفلت برتے گا، اس کی کمزوری اپنا کام کرے گی اور اس کے سارے معاملہ کو بگاڑ کر رکھ دے گی۔ نیم کے درخت کا مالک اگر کیڑے کے خلاف احتجاج کرے تو کبھی ایسا ہونے والا نہیں کہ نیم کے تنائمیں کیڑے نہ لگیں۔ اس کیڑے کا وجود قانون قدرت کے اذن کے تحت ہے۔ اور جس چیز کے پیچھے قانون قدرت کا اذن شامل ہو، اس کو ختم کرنا کسی بھی طرح ممکن نہیں۔ اسی طرح انسانی زندگی کے معاملات میں جو " کیڑے " لگتے ہیں، وہ بھی قانون قدرت کی بنا پر ہیں۔ وہ بہر حال باقی رہیں گے۔ ان کے خلاف احتجاج اور شکایت کا طوفان برپا کرنا سراسر لا حاصل ہے۔ ان کے مقابلہ میں ہم کو بچاؤ کی تدبیر تلاش کرنا ہے، نہ کہ ان کے خلاف احتجاجی نعرے لگانا۔ بچاؤ یا تحفظ اس دنیا کا ایک مستقل اصول ہے۔ اس دنیا میں وہی لوگ زندہ رہ سکتے ہیں جو اپنے بچاؤ کا اہتمام کرتے ہوں۔ جو لوگ اپنے بچاؤ کی طرف سے غافل ہو جائیں، ان کے لیے خدا کی اس دنیا میں ہلاکت کے سوا اور کچھ نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader