نمونہ کی اقلیت
Urdu book, p. 217
By Maulana Wahiduddin Khan
To put it plainly, they work harder. یہ لوگ تعلیم کو اپنے لیے کامیابی کا ٹکٹ (ticket to success) سمجھتے ہیں اور واقعی امریکہ کا تعلیمی نظام ان کے لیے کامیابی کا یقینی ٹکٹ ثابت ہوا ہے۔ اس ٹکٹ کو حاصل کرنے کے لیے انہوں نے جو قیمت ادا کی ہے وہ ایک لفظ میں امتیاز (excellence) ہے۔ اپنے اس عمل سے انہوں نے امریکہ میں نمونہ کی اقلیت (model minority) کا درجہ حاصل کر لیا ہے۔ تاہم امریکہ میں ان کے لیے راستہ بالکل کھلا ہوا نہیں تھا۔ ان کو نسلی امتیاز اور حقارت آمیز سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی نوجوان ان کا مذاق اڑاتے اور ان کو زرد خطرہ (yellow peril) کہتے۔ حتی کہ جسمانی طور پر مارنے پیٹنے کے واقعات بھی ہوتے رہے۔ مگر ایشیائی امریکیوں نے اس کے مقابلہ میں کسی بھی قسم کا رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ وہ شکایت اور احتجاج کے طریقہ سے مکمل پر ہیز کرتے رہے ہیں۔ اس کے جواب میں انہوں نے جو کچھ کیا وہ صرف یہ تھا کہ انہوں نے اپنی محنت کی مقدار بڑھا دی۔ ان کے والدین نے ان کے جذبات کو جوابی اشتعال سے بچایا اور اس کو جوابی محنت کے رخ پر ڈال دیا۔ ایشیائی خاندانوں میں تعلیم ایک قسم کا کابوس (obsession) بن کر چھا گئی۔ ایشیائی امریکیوں کے گھروں کی فضا یہ ہوگی کہ اگر ان کا لڑکا 80 فیصد نمبر لائے تو وہ کہیں گے کہ 85 فیصد کیوں نہیں اور اگر لڑکا 85 فیصد نمبر لائے تو اس کا باپ کہے گا کہ تم 90 فیصد بھی تو لا سکتے تھے۔ کسی گروہ کو مسائل کا سامنا ہو تو اس کے لیے اپنے مسئلہ کو حل کرنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک وہ جس کا نمونہ ہم کو ہندوستان میں نظر آتا ہے، یعنی مطالبہ اور احتجاج۔ اس طریق کار پر چلنے میں بیک وقت دو نقصانات ہیں۔ ایک یہ کہ اصل مسئلہ حل ہونے کے بجائے اور پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ اس دنیا میں ہر چیز عمل کے ذریعہ ملتی ہے، نہ کہ مطالبہ کے ذریعہ۔ اور جو چیز عمل کے ذریعہ ملتی ہو اس کو مطالبہ کے ذریعہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا اس کو دوسرے دور تر کر دینا ہے۔ دوسری بات یہ کہ ایسا گروہ دوسروں کی نظر میں بے عزت ہو جاتا ہے۔ مطالبہ اور احتجاج کا مطلب اپنے مسائل کا بوجھ دوسروں کے اوپر ڈالنا ہے اور کون ہے جو اپنے مسائل کا بوجھ دوسروں کے اوپر ڈالنے کے بعد دوسروں کی نظر میں حقیر اور بے عزت نہ ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader