حل رخی پالیسی
Urdu book, p. 224
By Maulana Wahiduddin Khan
روس اور امریکہ کی پالیسی میں اس ڈرامائی تبدیلی کا راز یہ ہے کہ ہتھیار سازی اور عسکری فوقیت حاصل کرنے کی کوشش میں دونوں ملکوں کی ترقی رک گئی۔ ایک دوسرے کے خلاف ہتھیاروں کی دوڑ (arms race) اور ایک دوسرے کے خلاف مذمت رخی (blame-oriented) پالیسی میں نصف صدی کی مدت گزارنے کے بعد ان پر کھلا کہ اس منفی طریقہ کار سے وہ کسی بھی قسم کا کوئی فائدہ حاصل نہ کر سکے۔ جب کہ دوسرے کی کاٹ کی کوشش میں دونوں نے خود اپنے آپ کو تباہی کے کنارے پر پہنچا دیا۔ چنانچہ اب انہوں نے سابقہ پالیسی کو ترک کر کے حل رخی (solution-oriented) پالیسی کو اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکہ اور روس امریکہ نے اپنی ساری طاقت جنگی مشین تیار کرنے میں لگا دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اقتصادی میدان میں خود اپنے مفتوحہ ملک جاپان سے بھی پیچھے ہو گیا۔ امریکہ آج سب سے بڑا قرض دار ملک ہے۔ اس کے اوپر 400 بلین ڈالر کا خارجی قرضہ ہے، جب کہ جاپان آج سب سے بڑا دائین ملک ہے۔ اُس نے دنیا کو 240 بلین ڈالر قرض دے رکھا ہے۔ امریکی ڈالر جو پچھلی نصف صدی سے اقتصادی دنیا کا شہنشاہ بنا ہوا تھا، اس کی یہ حیثیت بری طرح مجروح ہو گئی۔ حتیٰ کہ یہ سوال اٹھایا جانے لگا کہ کیا امریکہ اپنی بڑی طاقت کی حیثیت (Super power status) کو برقرار رکھ سکتا ہے (تفصیل کے لیے: ٹائم 4 جولائی 1988ء) ڈاکٹر ہنری کسنجر نے ایک انٹرویو (ٹائمس آف انڈیا 19 اگست 1988ء) میں کہا کہ نئی بنیادی حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر کچھ نئی طاقتیں ابھری ہیں۔ مثلاً چین اور ہندوستان۔ جاپان دن بدن زیادہ سے زیادہ طاقت ور ہوتا جا رہا ہے۔ ایسی حالت میں امریکہ کو دوسرے ملکوں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی کو چھوڑنا پڑے گا۔ امریکہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ نئے طاقتی مراکز کے ساتھ موافقت کرے: US will have to adjust with new centres. 19 ویں آل سوویت پارٹی کا نفرنس جون 1988ء کے آخری ہفتہ میں ماسکو میں ہوئی جس میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader