Urdu book · کتابِ زندگی

حل رخی پالیسی

Urdu book, p. 225

By Maulana Wahiduddin Khan

پورے ملک سے پانچ ہزار ڈیلی گیٹ شریک ہوئے۔ اس موقع پر روسی وزیر اعظم گورباچوف نے ساڑھے تین گھنٹہ کی تقریر کی۔ اس طویل تقریر میں انہوں نے نہایت شدت کے ساتھ خود تنقیدی (self-criticism) کی وکالت کی۔ ان کی اس تقریر کا ملخص متن ٹائمس آف انڈیا (29 جون 1988ء) صفحہ 11 پر دیکھا جا سکتا ہے۔ مسٹر کوئٹن پیل (Quentin Peel) ایک اخبار نویس کی حیثیت سے خود ماسکو کی اس کانفرنس میں شریک تھے۔ انہوں نے روسی لیڈروں کی تقریریں سنیں اور ان سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے روسی وزیر اعظم مسٹر گورباچوف کی ساڑھے تین گھنٹہ کی تقریر کا خلاصہ ان لفظوں میں بیان کیا ہے: The message seemed plain enough: the party would have to renounce its stifling role in the administration and economy of the country. Power and privilege would have to be curbed, science and initiative given their head, if the Soviet Union were to complete with the rest of the world, let alone be a superpower. پیغام بظاہر بالکل سادہ تھا۔ کمیونسٹ پارٹی کو انتظامیہ اور اقتصادیات اور ملک کے اوپر اپنے سخت کنٹرول کو چھوڑنا ہوگا۔ طاقت اور استحقاق پر پابندی لگانی ہوگی۔ سائنس اور محرک کو آگے بڑھانا ہوگا، اگر سوویت یونین کو بقیہ دنیا کا مقابلہ کرنا ہے، سپر پاور کی حیثیت کو باقی رکھنا تو درکنار۔ پرسترائیکا ان حالات نے روسی وزیر اعظم مسٹر میخائل گورباچوف کو مجبور کیا کہ وہ حقیقت کا اعتراف کریں۔ انہوں نے اشتراکی برتری کا مزاج ترک کرتے ہوئے روس میں تبدیلیاں لانے کی ایک نئی مہم شروع کر دی جس کو وہ دو لفظ میں بیان کرتے ہیں۔ ایک گلاس ناسٹ (glasnost) یہ ایک روسی لفظ ہے جس کے معنی کشادگی (openness) کے ہیں۔ دوسرے، پراسترائیکا (Perestroika) اس کا مطلب روسی زبان میں تنظیم نو (re-structuring) ہوتا ہے۔ پرسترائیکا کے نام سے مسٹر گورباچوف کی ایک کتاب بھی شائع ہوئی ہے۔ جس کا نام انگریزی میں اس طرح ہے: Perestroika: New Thinking for our Country and the World.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page