Urdu book · کتابِ زندگی

ایک تقابل

Urdu book, p. 238

By Maulana Wahiduddin Khan

شکست کے بعد جاپان نے اپنے آپ کو مکمل طور پر امریکہ کی ماتحتی میں پایا۔ امریکہ نے اس کے بعد جبری طور پر جاپان کو غیر مسلح کر دیا۔ جاپان کے نظام تعلیم میں انقلابی تبدیلیاں لائی گئیں۔ دسمبر 1945ء میں امریکی جنرل میکارتھر نے تعلیمی انتظام کے متعلق وہ بنیادی ہدایات جاری کیں جن کا خاص مقصد جاپان میں عسکریت کو اور جاپانی عوام کے قوم پرستانہ مزاج کو ختم کرنا تھا۔ جنگ کے زمانہ کے بہت سے ٹیچر ملازمت سے سبکدوش کر دیے گئے۔ مذہب اور سیاست کو مکمل طور پر ایک دوسرے سے الگ کر دیا گیا۔ شِنٹو تعلیمات کو نصاب سے خارج قرار دیا گیا۔ ان تبدیلیوں کا مقصد یہ تھا کہ جاپان کی جدید نسل کو امریکہ کی پسند کے مطابق بنایا جائے۔ 1946ء میں امریکہ کے تعلیمی ماہرین کی ایک ٹیم باقاعدہ منصوبہ کے تحت جاپان پہنچی۔ اس امریکی ٹیم نے ایک رپورٹ تیار کی جس کا نام حسب ذیل تھا: Report of the United States Education Mission to Japan. یہ رپورٹ گویا ان ہدایات کی عملی تفصیل تھی جن کو جنرل میکارتھر نے جاپان کی وزارت تعلیم کے نام جاپان کے مقتدر اعلیٰ کی حیثیت سے جاری کیا تھا۔ 1947ء میں جاپان کا بنیادی تعلیمی قانون اور اسکوللی تعلیم کا قانون اسی کی مطابقت میں وضع کیا گیا۔ 1948ء میں جاپان کا تعلیمی بورڈ بنایا گیا جس کا کام گویا اس بات کی نگرانی کرنا تھا کہ جاپان کا تعلیمی نظام امریکہ کی پسند کے مطابق جاری رہے۔ اس طرح جاپان میں اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطحوں پر جو تعلیمی نظام رائج ہوا وہ مکمل طور پر اس نظام کی نقل تھی جو امریکہ میں پہلے سے چل رہا تھا۔ جاپانیوں نے ہندوستان کے مسلم رہنماؤں کے برعکس، امریکہ کے اس منصوبہ کو ”تعلیمی استعمار “ بتا کر اس کے خلاف احتجاج اور بائیکاٹ کی تحریک نہیں چلائی۔ انہوں نے ایک دن ضائع کیے بغیر اپنی پوری نسل کو اس ”امریکی تعلیمی نظام“ میں داخل کر دیا۔ اب اس واقعہ پر تقریباً نصف صدی پوری ہو رہی ہے۔ اس کا جو نتیجہ ہوا وہ ساری دنیا کے سامنے ہے۔ امریکہ کے اس تعلیمی نظام میں پڑھ کر جو لوگ نکلے، وہ پورے معنوں میں ”جاپانی“ تھے ۔ وہ کسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page