ایک تقابل
Urdu book, p. 239
By Maulana Wahiduddin Khan
بھی اعتبار سے ”امریکی“ نہ بن سکے۔ جیسا کہ امریکہ انہیں بنانا چاہتا تھا۔ حتیٰ کہ انہوں نے امریکہ کی تمام امیدوں کے خلاف، جاپان میں ایک نیا انقلاب برپا کر دیا۔ انہوں نے جاپان کی ایک نئی تاریخ پیدا کر دی۔ انہوں نے ترقی کا ایک ایسا سیلاب جاری کیا جس کے بہاؤ میں خود امریکہ بھی ٹھہر نہ سکا۔ انہوں نے جاپان کو دنیا کی قوموں کے درمیان اعلیٰ ترین صف میں کھڑا کر دیا۔ یہی موجودہ دنیا میں ترقی کا راز ہے۔ یہاں کا کامیابی اور ترقی اس کے لیے ہے جو ناموافق صورت حال کو موافق صورت حال میں تبدیل کر سکے۔ جو دشمن کے مخالفانہ منصوبوں کو اپنے لیے مفید خوراک بنا لے جو اپنے ”نہیں“ کو اپنے ”ہے“ میں تبدیل کرنے کی اہلیت کا ثبوت دے۔ جو لوگ اس برتر صلاحیت کے حامل ہوں وہی مقابلہ کی اس دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں۔ جو لوگ اس امتحان میں ناکام ہو جائیں۔ ان کے لیے اس کے سوا اور کچھ مقدر نہیں کہ تاریخ کے کوڑا خانہ میں پڑے ہوئے دوسروں کے خلاف احتجاج کرتے رہیں، ایسا احتجاج جس کو سننے کے لیے کوئی دوسرا وہاں موجود بھی نہ ہو۔ اس معاملہ میں جس طرح ہمارے ملک کا سیکولر طبقہ ناکام ثابت ہوا ہے، اسی طرح اسلام پسند طبقہ بھی ناکام ثابت ہوا ہے۔ مثال کے طور پر اکبر الہ آبادی اور ابوالاعلیٰ مودودی جیسے لوگوں نے انگریزی دور کی تعلیم گاہوں کو قتل گاہ بتایا اور ایک پوری نسل کو اس سے روکنے کی کوشش کی۔ یہ احمقانہ حد تک بے معنی بات تھی۔ اسلام پسند رہنماؤں کے کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ وہ مسلم نوجوانوں میں یہ شعور پیدا کریں کہ وہ انگریزی تعلیم گاہوں سے تعلیم کو لیں اور اس کی انگریزیت کو چھوڑ دیں۔ مگر اپنے سطحی فکر کی بنا پر انہوں نے منفی انداز اختیار کیا۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کی ایک پوری نسل تعلیمی اعتبار سے برباد ہو کر رہ گئی۔ اس معاملہ میں جاپان کے اہل کفر ہندوستان کے اہل ایمان سے زیادہ عقل مند ثابت ہوئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader