متعلق اور غیر متعلق میں فرق کرنا
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
نے کسی سبب کے تحت کعبہ کی تعمیر ثانی کے وقت اس کو چھوٹا کر دیا۔ انھوں نے اس کے ایک حصے کو غیر مسقف حالت میں کھلا چھوڑ دیا، جو کہ ابھی تک اسی طرح موجود ہے۔ کعبہ کے ابراہیمی نقشے کے مطابق، کعبہ ایک مستطیل (rectangle) صورت کا تھا۔ تعمیر نو کے وقت قریش کے لوگوں نے کعبہ کو چو کور بنا دیا۔ جب کہ اس سے پہلے وہ مستطیل تھا۔ اس کے کچھ حصے کو انھوں نے کھلا چھوڑ دیا، جس کو اب حطیم کہا جاتا ہے۔ کعبہ کے مقابلے میں حطیم کا ایریا تقریباً ایک چوتھائی ہے۔ کعبہ کے بارے میں پیغمبر اسلام کی ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح بخاری کی روایت کا ترجمہ یہ ہے: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہاری قوم نے جب کعبہ کی عمارت بنائی، تو ابراہیم کی بنیاد سے اسے چھوٹا کر دیا۔ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ پھر آپ اس کو قواعد ابراہیمی کے مطابق کیوں نہیں بنا دیتے؟ آپ نے فرمایا اگر تمہاری قوم کا کفر کا زمانہ ابھی حال ہی میں نہ گزرا ہوتا تو میں ایسا کر دیتا۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1583)۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کی توجیہ ابن حجر العسقلانی نے ان الفاظ میں کی ہے: رعايةً لقلوب قريش (فتح الباری، 3/457)۔ یعنی قریش کے قلوب کی رعایت میں ایسا کیا۔ اصل یہ ہے کہ مذہب کے معاملے میں لوگ بہت حساس ہوتے ہیں۔ جب کسی مذہبی یادگار پر لمبی مدت گزر جائے تو لوگوں کی نظر میں وہ مقدس بن جاتی ہے۔ اس میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader