صلیبی جنگیں
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
میں شروع ہوا، اور وقفہ وقفہ سے 1291 ء تک جاری رہا۔ اس زمانے میں بیت المقدس کا علاقہ مسلم حکومت کے ماتحت تھا۔ اس علاقے کو مسیحی لوگ مقدس علاقہ (holy land) کہتے ہیں۔ یہ علاقہ پہلے رومی سلطنت میں تھا، اس کے بعد عمر بن خطاب کے زمانے میں وہ مسلم سلطنت میں شامل ہوا۔ صلیبی جنگوں کے موقع پر تقریبا پورے مسیحی یورپ نے مل کر حملہ کیا، تا کہ وہ اس مقدس علاقے کو دوبارہ اپنے قبضے میں لے سکیں۔ مگر متحدہ کوشش کے باوجود اس محاذ پر ان کو کامل شکست ہوئی۔ اس واقعے کو مورخ گبن نے ذلت آمیز شکست (humiliating defeat) قرار دیا ہے۔ مگر تاریخ کا یہ انوکھا واقعہ ہے کہ صلیبی جنگوں میں شکست کے بعد مغرب کی مسیحی قوموں نے ہار نہیں مانی، بلکہ ان کے اندر ایک مثبت اسپرٹ جاگ اٹھی۔ انھوں نے صلیبی جنگوں میں شکست کے بعد اپنے میدان عمل کو بدل دیا، اور جنگ کے میدان کے بجائے پر امن تحقیق کو اپنا میدان بنا لیا۔ ایک مبصر نے اس کو اسپرچول کروسیڈس (spiritual crusades) کا نام دیا ہے۔ اس پر امن کروسیڈس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مغرب کے مسیحی اہل علم تاریخ میں ایک نیا دور لانے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ وہی دور ہے جس کو scientific age کہا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنی ساری توجہ فطرت (nature) کی تحقیق پر لگا دی۔ اس کے نتیجے میں فطرت کے اندر چھپی ہوئی ٹکنالوجی پہلی بار انسان کے علم میں آئی۔ اسلام نے اعلان کیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader