Urdu book · منصوبہ بند عمل

صلیبی جنگیں

Urdu book, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

تھا کہ نیچر پرستش کا موضوع نہیں ہے، بلکہ وہ تحقیق کا موضوع ہے (الجاشیہ، 45:12-13)۔ اس طرح اسلام نے فطرت اور پرستش دونوں کو ایک دوسرے سے نظری طور پرڈی لنک (delink) کر دیا تھا۔ اس سلسلے کا اگلا کام مغرب کی مسیحی قوموں نے کیا۔ انھوں نے فطرت کی آزادانہ تحقیق شروع کی۔ یہاں تک کہ آخر کار سائنس کا دور پیدا ہوا، اور پھر وہ چیز ظہور میں آئی جس کو جدید تہذیب کہا جاتا ہے۔ مسیحی یورپ کا یہ عمل ری پلاننگ کی ایک مثال ہے۔ مسیحی یورپ نے پہلے یہ منصوبہ بنایا تھا کہ وہ جنگ کی طاقت سے ارض مقدس پر قبضہ حاصل کریں۔ دو سو سال کی جنگ کے بعد جب یہ منصوبہ ناکام ہو گیا تو ان کے اندر یہ ذہن پیدا ہوا کہ وہ جنگ کے میدان کے بجائے پرامن میدان میں اپنی کوشش صرف کریں۔ یہ ری پلاننگ کامیاب رہی، اور چند سو سال کی مدت میں صرف یہ نہیں ہوا کہ ایک نیا سیاسی دور وجود میں آگیا، بلکہ یہ ہوا کہ مسیحی یورپ نے نئے وسائل کے استعمال سے دوبارہ اس غلبہ کو زیادہ بڑے پیمانے پر حاصل کر لیا، جو سیاسی میدان میں ناکامی سے کھویا گیا تھا۔ اس علاقے کے مسلم رہنما اُس وقت اپنے معاملے کی ری پلاننگ نہ کر سکے، 1947 میں جب فلسطین کی تقسیم عمل میں آئی، اور اس میں فلسطین کا نصف حصہ عربوں کو دیا گیا۔ عرب رہنما کے لیے بھی یہ ایک ری پلاننگ کا وقت تھا۔ ان کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے پچھلے سیاسی مائنڈ سیٹ کو توڑیں، اور نئے حالات کے لحاظ سے اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کریں۔ اگر وہ ایسا کرتے تو یقیناً آج فلسطین میں ایک طاقت ور سلطنت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page