منصوبہ بند عمل
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
قائم ہوتی۔ فلسطین کا جو علاقہ عربوں کے قبضے میں دیا گیا تھا، وہ فلسطین کا سب سے زیادہ اہم علاقہ تھا۔ نیز شام اور عراق اور اردن اور مصر پہلے ہی سے ان کے قبضے میں تھے۔ یہ پورا علاقہ ایک تاریخی علاقہ ہے۔ یہ علاقہ عالمی سیاحت کے لیے بہت زیادہ ٹورسٹ اٹریشن (tourist attraction) رکھتا ہے۔ اگر اس علاقے میں امن قائم رہتا تو سیاحت کی انڈسٹری بہت زیادہ فروغ پاتی۔ اس سے عربوں کو نہ صرف اقتصادیات کے اعتبار سے غیر معمولی فائدے حاصل ہوتے، بلکہ سیاحوں کی آمد و رفت سے اس علاقے میں دعوتی مشن کا کام بھی بہت بڑے پیمانے پر ہو سکتا تھا۔ مگر ری پلاننگ کی اہمیت کو نہ جاننے کی وجہ سے یہ عظیم موقع استعمال نہ ہو سکا۔ حسن البناء اور عرب کے دوسرے مسلم رہنماؤں نے 15 دسمبر 1947 میں قاہرہ میں بہت بڑا جلسہ کیا تھا۔ اس میں تقریر کرتے ہوئے حسن البناء نے کہا تھا: لبیک لبلفلسطین۔ اگر وہ دانش مندی سے کام لیتے تو وہ لبیک ایھا الناس کے نعرے کے ساتھ اس علاقے میں داخل ہوتے، اور یہاں اسلام اور مسلمانوں کا نیا مستقبل تعمیر کر سکتے تھے۔ مگر یہ عظیم موقع استعمال ہونے سے رہ گیا۔ ویٹیکن ماڈل ایک حدیث رسول کے مطابق، اللہ رب العالمین اہل اسلام کے لیے دوسری قوموں کے ذریعہ تائید (support) فراہم کرے گا (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ اس حدیث رسول کا ایک پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دوسری قوموں یا سیکولر لوگوں کے ذریعے ایسے ماڈل (model) سیٹ کرے گا، جو اہل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader