Urdu book · منصوبہ بند عمل

منصوبہ بند عمل

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

ایسا کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کچھ دروازے بند ہوئے ہیں تو دوسرے دروازے پوری طرح کھلے ہوئے ہیں۔ اگر حالات کو سمجھ کر ہی پلاننگ کی جائے تو یقیناً مستقبل کی نئی تعمیر کی جاسکتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ ماضی کی ناکامیوں کو بھلایا جائے ، اور مستقبل کے امکانات کو لے کر اپنے عمل کا منصوبہ بنایا جائے۔ خالصہ تحریک کا تجربہ مہاراجہ رنجیت سنگھ (1780-1839) مشہور سکھ راجا تھے۔ ان کی حکومت ایک بڑے رقبے پر پھیلی ہوئی تھی۔ The geographical reach of the Sikh Empire under Ranjit Singh included all lands north of Sutlej river, and south of high valleys in the northwestern Himalayas. The major towns in the Empire included Srinagar, Attock, Peshawar, Bannu, Rawalpindi, Jammu, Gujrat, Sialkot, Kangra, Amritsar, Lahore and Multan. سکھ کمیونٹی کے درمیان خالصہ تحریک کا آغاز برٹش پیریڈ میں ہوا۔ اس کا مقصد تھا مہاراجا رنجیت سنگھ کی پولٹکل گلوری کو واپس لانا۔ ملک کی تقسیم کے بعد اس کا دائرہ محدود ہو گیا۔ مگر 1979 میں خالصتان نیشنل موومنٹ کے ذریعہ اس کا احیاء ہوا۔ اس کے بعد سکھ دانشوروں نے محسوس کیا کہ ان کی خالصہ تحریک کا ؤنٹر پروڈیکٹو (counter-productive) ثابت ہو رہی ہے۔ بظاہر اس کا کوئی مثبت نتیجہ نکلنے والا نہیں۔ اس سے سکھ کمیونٹی کے دانشوروں میں نئی سوچ جاگی۔ انھوں نے اپنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page