خالصہ تحریک کا تجربہ
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
کمیونٹی کے اندر وہی ذہن پیدا کیا جس کو ہم نے ری پلاننگ کہا ہے۔ یعنی مہاراجا رنجیت سنگھ کے دور کو گزری ہوئی تاریخ کا حصہ قرار دینا، اور نئے حالات کے تحت اپنے عمل کی ری پلاننگ کرنا۔ کچھ سکھ دانشوروں نے اپنی کمیونٹی کو بتایا کہ انڈیا کی آزادی (1947) کے بعد سکھ کمیونٹی نے انڈیا میں کافی ترقی کی ہے۔ انڈیا میں ان کی تعداد صرف دو فیصد ہے، مگر عملاً وہ انڈیا کی بیس فیصد (20%) اقتصادیات (economy) کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ اس کے بعد خالصہ تحریک کے لیڈر سردار جگجیت سنگھ چوہان (وفات: 2007) اپنی کمیونٹی میں غیر مقبول شخصیت بن گئے۔ اب سکھ کمیونٹی کے لوگوں نے ری پلاننگ کے ذہن کے تحت عمل کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ اب پنجاب انڈیا کے خوشحال ریاستوں میں سے ایک ہے۔ سکھ کمیونٹی کی یہ مثال فلسطین اور کشمیر پر پوری طرح منطبق ہوتی ہے۔ اگر کشمیر اور فلسطین کے مسلمان اس تجربے سے سبق لیں، اور اپنی قومی جدوجہد کی پلاننگ کریں تو بلا شبہ وہ ایک نئی تاریخ بنا سکتے ہیں۔ دونوں علاقوں میں ترقی کے غیر معمولی مواقع موجود ہیں، جو غیر حقیقت پسندانہ مزاج کی بنا پر ناقابل استعمال پڑے ہوئے ہیں۔ اگر فلسطین اور کشمیر کے مسلمان ری پلاننگ کے راز کو جانیں تو وہ بلا شبہ اپنے لیے ایک عظیم مستقبل پیدا کر سکتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں نہ صرف کشمیر اور فلسطین بلکہ تمام دنیا کے مسلمان منفی سوچ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader