محرک کی ضرورت
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
منصوبے صرف ٹھیکے داروں اور انجینئروں کے لئے لوٹ کھسوٹ کا موقع ثابت ہوں گے۔ مگر تمام نظریات میں صرف مذہب ہی کے لئے ممکن ہے کہ آدمی کے اندر اس قسم کا اندرونی محرک پیدا کر سکے۔ انسانی قانون بدعنوانی سے روکنے کے لئے زیادہ سے زیادہ کسی عدالت میں پیشی کا حوالہ دے سکتا ہے جس کے متعلق معلوم ہے کہ جھوٹے بیانات اور غلط شہادتوں کے ذریعہ بہت آسانی سے اس کو گمراہ کیا جا سکتا ہے۔ جب کہ مذہب قادر مطلق کی عدالت میں حاضر ہونے سے ڈراتا ہے، جس سے بچنا کسی حال میں ممکن نہیں ہے۔ اس لئے انسانی ساخت کا نظام کبھی بھی کوئی بہتر سوسائٹی تعمیر نہیں کر سکتا۔ یہ صرف مذہب ہی کے ذریعہ ممکن ہے۔ لینن نے مذہب کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ ” ہمارے نزدیک آسمان پر جنت تعمیر کرنے سے زیادہ اہم کام زمین پر جنت تعمیر کرنا ہے“، مگر تجربے نے یہ ثابت کر دیا کہ زمین پر وہی لوگ جنت تعمیر کر سکتے ہیں جو آسمان پر جنت تعمیر کرنے کا مقصد اپنے سامنے رکھتے ہوں۔ اور جن کے پیش نظر آسمان پر جنت کی تعمیر نہ ہو وہ زمین و آسمان دونوں جگہ صرف دوزخ تعمیر کریں گے۔ مذہب کے بارے میں یہ تصور محض ایک ذہنی اپج یا خوش عقیدی نہیں ہے بلکہ یہ ایک تاریخی حقیقت کو تسلیم کرنا ہے۔ پچھلی صدی کی تاریخ بتاتی ہے کہ کروڑوں انسان اس امید میں نیکی کی راہ چلے ہیں کہ انھیں اس کا بدلہ آنے والی زندگی میں ملے گا اور بے شمار لوگ محض اس خوف سے بدی سے بچتے رہے ہیں کہ کہیں ان کی بداعمالیاں انھیں عذاب دائمی کے حوالے نہ کر دیں۔ مگر مادی دور میں اس قسم کی مثال پیش نہیں کی جا سکتی۔ آج اگر کوئی انسان بھلائی کی راہ پر چلتا ہوا نظر آتا ہے تو وہ بھی دراصل پرانے مذہبی تصورات ہی کا اثر ہے۔ ورنہ جہاں تک مادی تہذیب کا تعلق ہے، وہ تو انسان کو خود غرض اور غیر ذمہ دار بنانے کے سوا اور کوئی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اس صورتِ حال نے تمام دنیا کے سنجیدہ انسانوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اب یہ حقیقت لوگوں کی سمجھ میں آنے لگی ہے کہ اصل مسئلہ انسان کا ذہن بدلنا ہے، نہ کہ قانون اور معیار زندگی کو بدلنا۔ خود وہ ممالک جو مادیت کا گڑھ ہیں، وہاں بھی ایسے لوگ اٹھ رہے ہیں جو بڑی شدت کے ساتھ اس ضرورت کو محسوس کرتے ہیں۔ چنانچہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد مغربی ملکوں سے جو کتابیں شائع ہو رہی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader