Urdu book · منزل کی طرف

منزل کی طرف

Urdu book, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

طرف روس کی سرحدوں پر ہزاروں آدمی نہایت قیمتی آلات اور دوربینیں لئے ہوئے رات دن یہ دیکھتے رہتے ہیں کہ امریکہ کا کوئی جاسوسی ہوائی جہاز ان کی سرحدوں کے اندر تو نہیں گھس آیا ہے۔ محرک کی ضرورت اس سے معلوم ہوا کہ انسانی بہتری کے لئے آج جس چیز کی ضرورت ہے وہ کوئی قانونی ڈھانچہ یا مادی ساز وسامان نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایسا نظریہ ہے جو ذمہ داری کا احساس پیدا کرے، جو آدمی کے اندر یہ جذبہ ابھارے کہ وہ اپنی اندرونی تحریک سے صحیح کام کرنے پر مجبور ہو اور غلط سمت میں جانے سے بچے ۔ یہ کام صرف مذہب کے ذریعہ ہو سکتا ہے۔ چند سو برس پہلے بڑے جوش سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ زندگی گزارنے کے سلسلے میں انسان کو مذہب کی ضرورت نہیں۔ مذہب حرام و حلال کے کچھ اصول دیتا ہے، وہ ہم اپنے قانون ساز ادارے کے ذریعہ حاصل کر سکتے ہیں۔ مذہب دوسری دنیا کی سزا سے ڈراتا ہے تاکہ لوگوں کے اندر عمل کا جذبہ پیدا ہو، اس کے لئے ہمارا عدالتی نظام اور ہماری جیلیں کافی ہیں۔ مذہب یہ ترغیب دلاتا ہے کہ ہمارے حکموں کو مانو گے تو تمہاری اگلی زندگی خوشگوار ہوگی۔ اس کے لیے بھی ہم کو موت کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ اپنی مادی ترقیوں کے ذریعہ ہم اسی دنیا کی زندگی کو جنت بنا سکتے ہیں مگر یہ تمام امیدیں واقعات کی چٹان سے ٹکرا کر پاش پاش ہو چکی ہیں۔ اور اب انسان دوبارہ اس مقام پر کھڑا ہے جہاں سے اس نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ لمبی مدت تک ٹھوکریں کھانے کے بعد اب انسان کی میں یہ بات آئی ہے کہ صرف کاغذی نقشے اور مادی ذرائع و وسائل کافی نہیں ہیں۔ اس کے سوا ایک اور چیز ہے جس کی انسان کو ضرورت ہے، وہ ہے خود انسان کا اپنا جذبہ۔ اس کے اندر ایک ایسا ارادہ جو اصلاحات کی خارجی کوششوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے تیار ہو۔ دوسرے لفظوں میں ایک ایسا محرک جو اندر سے آدمی کو عمل پر اکسائے، جو آدمی کو ایک دوسرے کے حقوق پہچانے پر مجبور کرے۔ یہی اندرونی محرک تمام اصلاحات کی جان ہے۔ اگر یہ موجود نہ ہو تو ساری ترقیوں کے باوجود آپس میں اس قدر چھین جھپٹ ہوگی کہ زندگی سکون سے محروم ہو جائے گی اور بہترین قسم کے معاشی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page