منزل کی طرف
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ وہ اپنا عمل اور سماجی ذمہ داریوں کو اپنی حیثیت کے مطابق انجام دے، نہ کہ منافع کی غرض سے۔ ہم کو اب سماجی اور اقتصادی مصلحین بتا رہے ہیں کہ اسٹیٹ اس بات کی نگرانی کرے گی کہ مرد اور عورت محض اپنے ذاتی مقاصد کے لیے کام نہ کریں بلکہ اجتماعی مفاد کو بھی سامنے رکھیں۔ اور یہ بالکل وہی بات ہے جو بھاگوت گیتا میں کہی گئی ہے....... اس میں نہایت واضح طریقے پر بار بار بتایا گیا ہے کہ تمام کام دیانتداری اور بے غرضی کے ساتھ اجتماعی بہبود (لوک سنگرہ) کے لئے کیا جائے، نہ کہ شخصی تمناؤں کی تسکین کے لئے۔ در حقیقت گیتا نے تمام سوشلسٹ اصولوں کو نہایت عمدہ طریقہ پر پیش کر دیا ہے۔‘‘ صفحات ۲۲ - ۳۲۔ دونوں مذاہب پر تبصرہ عیسائیت اور ہندو ازم کی طرف سے جو دعویٰ کیا گیا ہے اس کو میں بالکل بے بنیاد نہیں کہتا مگر یقینی طور پر میں اس کو نہایت ناقص حل سمجھتا ہوں۔ یہ صحیح ہے کہ انجیل اور وید میں اخلاق کے نہایت اعلیٰ اصول لکھے ہوئے ملتے ہیں۔ مگر انسان کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ محض اخلاقیات کی ایک فہرست نہیں ہے۔ اس قسم کی فہرست کا علم انسان کو بہت پہلے سے ہے اور اس سلسلے میں شاید ہم انسانی معلومات میں کوئی خاص اضافہ نہیں کر سکتے۔ آج انسان کو دراصل ایسے محرک کی ضرورت ہے جو ان معلوم اخلاقیات پر عمل کے لئے ابھار رہا ہو، وہ اس کے اندر ایسا مضبوط داعیہ پیدا کرے کہ جو کچھ وہ جانتا ہے اس کو وہ کرنے لگے اور اس لحاظ سے دونوں مذاہب تقریباً خالی ہیں۔ مگر یہ خالی ہونا اس نوعیت کا نہیں ہے جیسا کہ اوپر ہم نے ’’اخلاق کے نام پر اخلاق‘‘ پیدا کرنے والوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے۔ یہ مذاہب جس طرح اخلاق کے کچھ اصول بناتے ہیں اسی طرح ان کی تعلیمات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جو ان پر عمل نہیں کرے گا وہ اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر ایک انجام سے دوچار ہوگا۔ دونوں مذہبوں میں زندگی کے بعد موت کا تصور موجود ہے اور دونوں مرنے کے بعد کسی نہ کسی شکل میں اچھے یا برے انجام کی خبر دیتے ہیں۔ یہی دراصل وہ چیز ہے جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader