Urdu book · منزل کی طرف

دونوں مذاہب پر تبصرہ

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

آدمی کو بدعنوانیوں سے روکنے والی ہے۔ یہ تصور وہاں بھی آدمی کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے جہاں کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں ہوتا۔ اس طرح ان مذاہب میں وہ قدر بنیادی طور پر موجود ہے جس کو اوپر ہم نے محرکِ عمل کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ اس کا ایک کھلا ہوا ثبوت خود ان مذاہب کی تاریخ میں موجود ہے۔ سابق دور میں ان مذاہب کی بنیاد پر جو سوسائٹی بنی تھی وہ اخلاقی اعتبار سے صریح طور پر موجودہ مادہ پرست سوسائٹی سے بہتر تھی۔ مگر ان مذاہب کے ماننے والوں نے اپنے مذہب کو صحیح شکل میں محفوظ نہیں رکھا اور ان کی تعلیمات اب جس شکل میں ہمارے سامنے موجود ہیں وہ اس قدر ناقص اور الجھی ہوئی ہیں کہ کسی وسیع اور پائیدار اصلاح کی بنیاد نہیں بن سکتیں۔ عیسائیت کا حال یہ ہے کہ جس بائبل میں پہاڑی کا وعظ ہے اسی میں مسیحی مذہب کا یہ عقیدہ بھی درج ہے کہ نجات کے لئے کسی عمل کی ضرورت نہیں، صرف یسوع مسیح پر ایمان لانا کافی ہے۔ اس نظریے کے مطابق ساری دنیا خدا کے نزدیک سزا کے لائق ہے کیوں کہ سب نے گناہ کیا اور خدا کے جلال سے محروم ہو گئے۔ اس لیے خدا نے اپنے بیٹے کو دنیا میں بھیجا اور اس کو سولی پر چڑھا کر" اس کے خون کے باعث ایک ایسا کفارہ ٹھہرایا، جس کو مان کر دوسرے لوگ اپنے گناہ بخشوا لیں گے۔ اب نجات کے لئے عمل کی ضرورت نہیں بلکہ صرف خدا کے بیٹے کی اس حیثیت کو تسلیم کرنا کافی ہے۔ کیوں کہ انسان شریعت کے اعمال کے بغیر ایمان کے سبب سے راست باز ٹھہرتا ہے۔" (نئے عہد نامے کی چھٹی کتاب، باب ۳)۔ ایسی حالت میں کون عمل کے جھنجھٹ میں پڑے گا۔ کفارہ کا عقیدہ تسلیم کرنے کے بعد وہ کون سا محرک ہے جو آدمی کو نیکی کے لئے ابھارے اور برائی سے رکنے پر مجبور کرے۔ انجیل کا یہ تضاد ہمارے نزدیک سیدنا عیسیٰ علیٰ کی اصل تعلیم کا تضاد نہیں ہے۔ مگر آج عیسائیت کے نام سے جو چیز موجود ہے قطعی طور پر یہی ہے۔ آنجناب نے تو مذہب کو اس کی صحیح ترین شکل میں پیش کیا تھا۔ مگر آپ کے ماننے والے آپ کی تعلیمات کو محفوظ نہ رکھ سکے۔ دوسروں کی تشریح و تعبیر میں شامل ہو کر اصل حقیقت گم ہو گئی۔ انجیل کو دیکھئے تو ایک طرف اس میں بہترین مؤثر انداز میں، آخرت کا ذکر اور اعلیٰ اخلاقیات کی تعلیم ملے گی جس کو پڑھ کر آدمی کی روح بیدار ہوتی ہے اور اس کے اندر عمل کا جذبہ پیدا ہوتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page