دونوں مذاہب پر تبصرہ
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے، مگر اس کے بعد جب وہ اگلے صفحات میں سینٹ پال کا فلسفہ پڑھتا ہے تو اس کو یہ تمام چیزیں بے ضرورت معلوم ہونے لگتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کفارہ کے عقیدے نے عیسائی مذہب میں عمل کی بنیاد کو اسی طرح کمزور کر دیا ہے جیسے کسی ملک کے دستور میں یہ لکھ دیا جائے کہ اگر چہ یہاں پولیس اور عدالت کا نظام قائم رہے گا مگر کسی کو غلط روی پر سزا نہیں دی جائے گی۔ کیوں کہ انسان پاک رہنے پر قادر نہیں ہے۔ ہندو مذہب کا معاملہ بھی تقریباً یہی ہے۔ بظاہر وہ صرف اخلاقی اپیل نہیں کرتا بلکہ سزا اور انعام کا بھی نظریہ اپنے پاس رکھتا ہے۔ جس کو ’’کرم‘‘ کہتے ہیں، یعنی اپنے کئے کا پھل پانا۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ نظریہ بھی اپنی ابتدائی شکل میں ایک صحیح نظریہ ہو گا۔ مگر اب تو وہ نہایت ناقص صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ ہندو مذہب پر فلسفہ کا جو لمبا دور گزرا ہے غالباً اس زمانے میں لوگوں کی ذہنی موشگافیوں نے اس کی ہیئت بدل دی۔ اور ایک صحیح چیز نے غلط شکل اختیار کر لی۔ اب یہ نظریہ جس صورت میں ہمارے سامنے ہے اس کو آواگون یا پنر جنم کہتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جیسا عمل کرتا ہے اسی کے لحاظ سے وہ اگلے جنموں میں اچھے یا برے جسم میں پیدا ہوتا ہے اور پیدائش کا یہ چکر برابر چلتا رہتا ہے۔ اس عقیدے کی رو سے آج جو وجود انسان، حیوان، پرندہ، درخت، سبزی، گھاس یا کیڑے مکوڑے کی شکل میں نظر آ رہا ہے وہ سب پچھلے اعمال کے نتیجے میں ہے۔ پنر جنم کا نظریہ معمولی اختلاف کے ساتھ ہندو مذہب کی تمام شاخوں میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس نظریے کے اوپر بھی ہماری تنقید وہی ہے جو عیسائیت کے سلسلے میں ہم لکھ چکے ہیں۔ یعنی اس کے اندر جو محرک ہے وہ نہایت ناقص اور محدود ہے۔ وہ آدمی کے اندر کوئی ایسا زور دار داعیہ پیدا نہیں کرتا جس کی رغبت سے وہ اچھائی کی طرف لپکے اور جس کا ڈرا سے برائیوں سے رکنے پر مجبور کرے۔ فرض کیجئے، ایک آدمی کو ہیں ہزار روپئے رشوت میں مل رہے ہیں۔ کیا صرف اس لئے وہ ملتے ہوئے فائدے کو چھوڑ دے گا کہ مرنے کے بعد جب اس کا دوسرا جنم ہو گا تو اس میں وہ مکھر مکھی ہو جائے گایا رم اور بچوں کی نسل میں پیدا ہو۔ ایسی ہرپن قانون کے تحت ملنے والی سزا کا خوف اسراں کو اس عمل سے نہیں روکتا تو اگلے جنم میں کیڑا مکوڑا یا درخت بن جانے میں وہ کون سی ہولنا کی ہے جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader