Urdu book · منزل کی طرف

دونوں مذاہب پر تبصرہ

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

آدٹی کولرزادے اور اس کو جرم سے باز رکھے۔ اس نظریے کے مطابق، وحشیانہ جرائم کی ایک بہت بڑی سزا جو منوسمرتی میں بتائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ایسا آدمی دوسرے جنم میں چنڈال کے گھر میں پیدا ہوگا۔ چنڈال سے مراد پاستی، ملاح، دھوبی، ڈوم، چمار، وغیرہ ہیں۔ ممکن ہے کسی زمانے میں ان قوموں کی یہ حالت رہی ہو۔ مگر اب تو ان کا لقب ہریجن (خدا والے) ہے۔ ان کو وقت کے دستور میں دوسرے انسانوں کے برابر درجہ حاصل ہے۔ اور ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بنگلوں اور کاروں میں زندگی گزارتے ہیں۔ حتیٰ کہ ایک اچھوت لیڈر اگر الیکشن میں جیت جائے تو وہ وزارت کا عہدہ حاصل کر کے برہمن آبادی کے اوپر حکومت کرتا ہے اور ان کے لیے قانون بناتا ہے۔ آخر اس طرح کے انجام میں وہ کون سا بھیا نک پن ہے جو کسی کو جرم سے روکے کا سبب بن سکے۔ اور بالفرض اگر اس سزا کی کوئی تعبیر کی جائے جس میں وہ بھیانک نظر آنے لگے تو اس کے بعد بھی اس کے اندر ایک ایسا خلاء باقی رہتا ہے جو آدمی کے جذبات سرد کرنے کے لیے کافی ہے۔ اگر آپ ایک تباہ حال آدمی کو لیں اور اس سے پوچھیں کہ تم نے اپنے پچھلے جنم میں کیا کیا تھا جس کے نتیجہ میں تم یہ انجام بھگت رہے ہو تو وہ کچھ نہ بتا سکے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے کسی کو شعوری طور پر یہ بھی نہیں معلوم کہ ہم اس سے پہلے دنیا میں آئے بھی تھے یا نہیں۔ پنر جنم کے عقیدے کے مطابق، انسان کو اس کے عمل کا بدلہ دینے کا معاملہ بالکل بے خبری میں انجام پاتا ہے اور یہ بے خبری پنر جنم کی تمام شکلوں میں موجود ہوتی ہے۔ جن احساسات رکھنے والے ایک وجود نے اپنی زندگی میں ایک کام کیا تھا اس کو جب اپنے اس عمل کا انجام ملتا ہے تو وہ اپنے پچھلے وجود کو بھول چکا ہوتا ہے۔ کیا ایک ایسے واقعہ کو سزا کہا جا سکتا ہے۔ یہ تو بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے بے ہوشی کا انجکشن دے کر کسی کی چیڑ پھاڑ کی جائے بلکہ زیادہ ٹھیٹھ لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے آج کے عمل کا بدلہ کل دوسرے شخص کو ملے گا۔ اور میری آج کی بداعمالیوں کی سزا کل کسی اور کو بھگتنی پڑے گی۔ مرنے کے بعد جب میں اپنے موجودہ شعور اور موجودہ احساسات کے ساتھ ختم ہو جاؤں گا تو اس کے بعد کی پیدائش کو میری پیدائش کیوں کہا جائے۔ پھر جس عمل کا انجام میرے بعد دوسرے انسان کو ملنے والا ہے اس کے لئے میں آخر کیوں کوشش کروں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page