منزل کی طرف
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
اور پھر جس بدعملیکسی سزا دوسرے وجود کو بھگتتی ہے اس سے میں کیوں ڈروں۔ پنر جنم میں روح کے قالب بدلنے کو جس شکل میں پیش کیا گیا ہے ممکن ہے اس کو منطقی استدلال اور فلسفیانہ بحثوں کے ذریعہ ایک انسان کا مختلف جنم قرار دیا جاسکے، مگر قطعی طور پر یہ ایک لفظی استدلال ہوگا۔ حقیقت کے اعتبار سے یہ بات بالکل نا قابلِ فہم ہے کہ اس طرح کے مختلف جنموں کو ایک انسان کا جنم کس بنا پر کہا جاتا ہے۔ اس طرح اس نظریے کے اندر انسانی کامیابی کا تصور دیا گیا ہے اس میں بھی ہمارے لیے کوئی کشش نہیں ہو سکتی۔ پنر جنم کے مطابق، انسان کی کامیابی یہ ہے کہ اس کی روح مختلف قالبوں میں پیدا ہو کر ارتقا کرتی رہے یہاں تک کہ بالآخر خدا یا پر ماتما کے وجود میں گم ہو جائے جس کو نجات یا نروان کہا جاتا ہے۔ یہاں مجھے اس نظریے کے علمی اور فلسفیانہ پہلوؤں سے بحث نہیں ہے۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس طرح کے ایک نظریے میں وہ کون سی کشش ہے جس کے لیے آدمی دنیا کے دکھ جھیلے اور زندگی بھر خواہ مخواہ ذمہ داریاں پوری کرنے اور حقوق ادا کرنے کا کھڑاگ اپنے سر مول لے۔ اس کامیابی میں انسان کو کیا ملا۔ اس کو زیادہ سے زیادہ پر ماتما کی اپنی تکمیل کہا جاسکتا ہے، نہ کہ انسان کا ارتقا۔ پھر جس عمل کا فائدہ تمام تر دوسرے کو ملنے والا ہے اس میں آدمی کیوں محنت کرے۔ ممکن ہے کچھ مخصوص قسم کے فلسفیانہ ذوق رکھنے والے لوگوں کو اس طرح کے نامعلوم ارتقا سے دلچسپی ہو۔ مگر عام انسان جن جذبات اور جن تمناؤں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے اس کے لیے اس میں کوئی کشش نہیں ہو سکتی اور صرف یہ واقعہ فلسفہء نروان کے خلاف فطرت اور خلاف واقعہ ہونے کا کافی ثبوت ہے۔ اسلام اس مختصر جائزے کے بعد اب ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں یہ فیصلہ کرنا آسان ہے کہ نوع انسانی کی فلاح و بہبود کے لیے کون سا دھرم سب سے بہتر ہے۔ اس کا جواب اسلام کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا، کیوں کہ وہ تمام خصوصیات اس کے اندر مکمل ترین شکل میں موجود ہیں جو ایسے ایک دھرم میں ہونا ضروری ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلام کی طرف سے کسی ایسی چیز کا انکشاف کرنے والا ہوں جس کی بقیہ دنیا کو اب تک خبر نہیں تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی یہ حیثیت اپنے اصول کے نئے پن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader