Urdu book · منزل کی طرف

منزل کی طرف

Urdu book, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

جاتے ہیں۔ اسی طرح جب بھی حکومت کے علم میں کوئی برائی آتی ہے تو وہ اس کے خلاف ایک قانون بنا دیتی ہے یا ایک آرڈر جاری کر دیتی ہے۔ مگر اس کا فائدہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا کہ چلنے والے اپنا راستہ بدل کر چلنے لگتے ہیں۔ اگر کسی چیز کی درآمد و برآمد پر پابندی لگائی جاتی ہے تو اسمگلنگ شروع ہو جاتی ہے۔ اگر ٹیکس بڑھائے جاتے ہیں تو جعلی حسابات کے رجسٹر تیار ہو جاتے ہیں۔ کسی چیز کی کمی کے پیش نظر اس کے خرچ کو مقرر حد میں رکھنے کے لئے اس پر کنٹرول کیا جاتا ہے تو پبلک مارکیٹنگ اور جعلی پرمٹ کا کاروبار جاری ہو جاتا ہے۔ کسی کاروبار کو قومی ملکیت میں لیا جاتا ہے تو سرکاری افسران قدر لوٹ مچاتے ہیں کہ نفع کے بجائے اس میں حکومت کو گھاٹا اٹھانا پڑتا ہے۔ اس طوفان بے تمیزی میں اگر کوئی پکڑ لیا جائے اور معاملہ عدالت تک پہنچنے کی نوبت آئے تو وہاں بھی غلط کارروائیاں اور جھوٹی شہادتیں اس کو بچانے کے لئے موجود ہیں۔ غرض قانون اور حقیقت کے درمیان ایک طرح کی آنکھ مچولی ہو رہی ہے جس میں ناکامی تمام تر قانون کے حصہ میں آئی ہے۔ مادی فلسفہ دوسری چیز جو بہتر سماج کا خواب پورا کرنے کے سلسلے میں انسان کے سامنے تھی، وہ مادی خوشحالی ہے۔ اس کا فلسفہ یہ ہے کہ جب لوگوں کی آمدنیاں بڑھ جائیں، جب لوگوں کو اپنی ضرورت کی چیزیں فراغت کے ساتھ حاصل ہونے لگیں گی تو وہ کس لئے بدعنوانی کریں گے، کس لئے دوسروں کو تکلیف دیں گے۔ مگر واقعات سے اس نظریئے کی تردید ہوتی ہے۔ بلا استثناء تمام ملکوں کا یہ حال ہے کہ وہاں جس رفتار سے مادی ترقی میں اضافہ ہوا ہے اسی نسبت سے جرائم کی رفتار بھی بڑھ رہی ہے۔ میں یہاں اختصار کے خیال سے صرف انٹرنیشنل کریمنل پولیس کی رپورٹ کا حوالہ دوں گا جس نے دنیا کے ۴۳ ملکوں کے اعداد و شمار جمع کر کے شائع کئے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق، غریب ملکوں میں جرائم کا اوسط ان ملکوں سے بہت کم ہے جو خوشحال ہیں اور جن کا معیار زندگی بہت بڑھا ہوا ہے۔ برطانیہ میں ۱۹۴۶ء میں اٹھارہ سال کا ایک لڑکا صرف دو پونڈ ساڑھے سات شلنگ فی ہفتہ کما سکتا تھا لیکن آج پونے چھ پونڈ کما لیتا ہے۔ اور ہوشیار قسم کے نو جوان سات آٹھ پونڈ سے زیادہ کما لیتے ہیں اور پھر انہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page