Urdu book · منزل کی طرف

مادی فلسفہ

Urdu book, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

یقین ہے کہ چند سال بعد جب وہ سن بلوغ کو پہنچیں گے تو وہ تیرہ پونڈ فی ہفتہ کے اوسط قومی آمدنی کے مستحق ہوں گے۔ روزگار کے یہ مواقع اور یہ معیار زندگی ہندوستان کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے لیکن مندرجہ بالا اعداد و شمار کے مطابق، ۱۹۵۲ء میں ہندوستان میں ایک لاکھ آبادی کے درمیان قابلِ ذکر جرائم کی تعداد ۱۶۵ تھی۔ جب کہ برطانیہ میں اتنی ہی آبادی میں ۱۳۲۲ جرائم کیے گئے۔ امریکہ جو تمام دنیا میں سب سے زیادہ دولت مند ملک سمجھا جاتا ہے وہاں جرائم کی تعداد ایک لاکھ آبادی میں ۱۳۲۲ تھی (لیڈر، ۱۸ فروری ۱۹۵۵ء)۔ اور وہاں کے سب سے بڑے تجارتی شہر نیو یارک کا تو یہ حال ہے کہ ہر سیکنڈ میں شدید جرم کا ایک واقعہ ہوتا ہے۔ جرائم کی اس بڑھتی ہوئی رفتار نے ترقی یافتہ ملکوں میں زندگی کا سکون برہم کر دیا ہے۔ آدمی اس طرح زندگی گزار رہا ہے کہ اس کو اپنا مستقبل غیر یقینی نظر آتا ہے۔ کسی بینک کو نہیں معلوم کہ کب ڈاکوؤں کا ایک گروہ مورٹروں اور مشین گنوں سے مسلح ہو کر اس پر حملہ کر دے گا اور کسی خاتون کو نہیں معلوم کہ شام کے وقت جب وہ دفتر سے لوٹ رہی ہو گی تو وہ راستہ میں اغواء کر لی جائے گی یا پانچ کر واپس اپنے گھر پہنچے گی۔ انگلینڈ میں قاتل کے لئے موت کی سزا کو منسوخ کر دیا گیا ہے، مگر جرائم کی بڑھتی ہوئی وباء کو دیکھ کر وہاں کے ایک مشہور اہل قلم اور سابق ممبر پارلیمنٹ سرایلن ہر برٹ نے مطالبہ کیا کہ سزائے موت کو دوبارہ جاری کیا جائے اور نہ صرف قاتل کو بلکہ چوروں، نقب زنوں اور عورت کی عصمت پر حملہ کرنے والوں کو بھی یہی سزا دی جائے۔ اوپر کی گفتگو سے جہاں مادی نظریات کی ناکامی ثابت ہوتی ہے وہیں یہ بات بھی واضح ہوگئی ہے کہ ان کے اندر وہ کون سا بنیادی خلاء ہے جس نے انہیں مکمل ناکامی سے دوچار کیا ہے۔ یہ خلاء دراصل محرک کا خلاء ہے۔ آپ ایک کارخانے کو صرف بجلی کا بٹن دبا کر حرکت میں لا سکتے ہیں۔ مگر انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ وہ اسی وقت کوئی کام کرتا ہے جب اس کے اندر اس کے کرنے کا جذبہ پیدا ہو چکا ہو۔ آج دنیا کے پاس زندگی گزارنے کے لئے بہترین قسم کے کاغذی نقشے ہیں اور اس کو عمل میں لانے کے لئے جدید ترین ساز و سامان موجود ہیں۔ مگر یہ سب کچھ اس لیے بے کار پڑا ہوا ہے کہ انسان اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page