Urdu book · منزل کی طرف

مادی فلسفہ

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

آج مجرموں کو پکڑنے کی تکنیک اتنی ترقی کر گئی ہے کہ اگر کوئی شخص ایک ملک میں جرم کرکے دوسرے مقام پر بھاگ جانے کی کوشش کرے تو اس کے سرحد پار کرنے سے پہلے ریڈیو، فوٹو کے ذریعہ ساری دنیا میں اس کا حلیہ نشر کیا جا سکتا ہے۔ لیکن پولیس کے افراد اپنی ڈیوٹی صحیح طور پر انجام نہیں دیتے اس لئے جرم کی روک تھام کے یہ سارے مواقع بے کار ثابت ہو رہے ہیں۔ اقتصادیات اور اعداد و شمار کے ماہرین نہایت کامیاب طریقہ پر” کم سے کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے منصوبے بناتے ہیں۔ مگر عملہ کے اندر لوٹ کھسوٹ کی ذہنیت کی وجہ سے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں سے وصول کی ہوئی رقم کم سے کم لوگوں کی جیبوں میں چلی جاتی ہے۔ حکومت کی تشکیل کے لئے نہایت وسیع قسم کے جمہوری طریقے دریافت کئے گئے ہیں مگر لیڈروں اور سیاسی کارکنوں کے غلط استعمال کی وجہ سے جمہوریت عملاً ایک تماشہ بن کر رہ گئی ہے۔ ابھی حال میں (اپریل ۱۹۶۰ء) جنوبی کوریا کے الیکشن کے بعد اعلان کیا گیا کہ صدارت کے انتخاب میں ڈاکٹر سنگمن رہی کو ۹۰ فی صدی ووٹ ملے ہیں، مگر اعلان کے بعد جب عوام نے بغاوت کر دی اور ڈاکٹر رہی کو اپنا صدارتی محل چھوڑ کر بھاگنا پڑا تو معلوم ہوا کہ ” ۹۰ فی صدی “ کی حقیقت اعداد و شمار کے دھوکہ کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ سماجی اصلاح کے لئے مستقل محکمے قائم ہیں اور اس کے لئے ایسے ایسے قوانین بنائے گئے ہیں جو انسانی آرزوؤں کی بہترین ترجمانی کرتے ہیں، مگر عملاً یہ صرف ان لوگوں کے لئے لوٹ کھسوٹ کا ایک عنوان ہے جو اس کام پر مامور کئے گئے ہیں۔ آج عالمی اتحاد کے نہایت خوبصورت نظریے کتابوں میں لکھے ہوئے موجود ہیں اور آپس میں تعلق قائم کرنا اتنا آسان ہو گیا ہے کہ آپ ٹیلی فون ریسیور اٹھا کر دنیا کے کسی حصہ کے آدمی سے بات کر سکتے ہیں اور ہوائی جہاز سے اڑ کر چند گھنٹے میں کہیں سے کہیں پہنچ سکتے ہیں۔ مگر انسان کے اپنے رویے کی وجہ سے یہ سارا ساز و سامان ایک مصیبت ثابت ہو رہا ہے۔ آج سائنس کی بہترین کوششیں صرف ایسے آلات تیار کرنے میں لگی ہوئی ہیں جو دم بھر میں زندہ انسانوں اور آباد شہروں کو ختم کر دیں۔ ایک دوسرے کے خلاف شبہات کا یہ حال ہے کہ امریکہ کی اسٹریٹیجک ایر کمانڈ کے تقریباً ہزار ہوائی جہاز ہر وقت آسمان میں اڑتے رہتے ہیں تاکہ اپنے ملک کو اچانک حملے سے بچائیں۔ دوسری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page