مقصدِ حیات
Urdu book, p. 3
By Maulana Wahiduddin Khan
دینے والے (giver) کے ذریعے انسان کو ملا ہے۔ ایسی حالت میں ضروری تھا کہ انسان اِس انعام میں اس کے منعم کو پہچانے، وہ اس انعام پر اس کے دینے والے کا اعتراف کرے، وہ اُس کے سامنے پورے دل و دماغ کے ساتھ جھک جائے۔ وہ یہ جاننے کی کوشش کرے کہ دینے والے نے یہ انوکھا تحفہ اس کو کیوں دیا ہے، اور پھر دینے والے کی منشا کے مطابق، وہ اس کو استعمال کرے، وہ اس کی منشا کو جان کر اُس کے مطابق یہاں زندگی گزارے۔ مگر ایسا نہ ہوسکا۔ انسان اِس زمین پر زندگی گزارتا ہے۔ وہ یہاں اپنے لیے ایک تہذیب کی تشکیل کرتا ہے۔ وہ یہاں اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے شان دار مستقبل بنانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اس کو کبھی خیال نہیں آتا کہ وہ اس بات کو جاننے کی کوشش کرے کہ لائف سپورٹ سسٹم کا یہ انوکھا نظام کس نے بنایا ہے، اور یہ بنانے والا اس کے بدلے میں انسان سے کیا چاہتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader