Urdu book · معرفت الہی

معرفت الہی

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

اعلی معرفت والے لوگ وہ ہیں جن کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: والذین آمنوا أشد حبّ الله (2:165) یعنی جو ایمان والے ہیں، وہ سب سے زیادہ محبت اللہ سے رکھنے والے ہیں۔ یہ وہ اصحابِ معرفت ہیں جنھوں نے اللہ کو ایسی برتر ہستی کے طور پر دریافت کیا جو کامل طور پر ان کے دل و دماغ پر چھا گیا۔ ان کی ساری محبتیں ایک اللہ کے لیے وقف ہو گئیں ۔ اللہ وحدہ لا شریک ہی اُن کا سب سے بڑا اکتسرن(supreme concern)بن گیا۔ اُن کی سوچ تمام تر اللہ والی سوچ(God-oriented thinking)بن گئی۔ جن لوگوں کو اللہ سے محبت کے درجے کا تعلق ہو جائے، وہ اللہ کے حضور(presence)میں جینے لگتے ہیں۔ اُن کو دنیا ہی میں اللہ کی قربت حاصل ہو جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کو دنیا میں یہ قربت (closeness)نفسیات کی سطح پر ملتی ہے، آخرت میں اُن کو قربت کا یہ تجربہ عملی سطح پر ہونے لگے گا۔ وہ دنیا ہی کی زندگی میں خدا کی قربت کا تجربہ کر رہے تھے، آخرت میں اُنھیں قربت الہی کے مزید اعلیٰ درجات حاصل ہو جائیں گے۔ محبتِ الہی قرآن کی سورہ البقرہ میں اہلِ ایمان کی ایک بنیادی صفت ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: والذین آمنوا أشد حبّ الله (165 :2) یعنی جو لوگ خدا پر ایمان رکھتے ہیں، وہ سب سے زیادہ خدا سے محبت رکھنے والے ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں اہلِ ایمان سے مراد اہلِ معرفت ہیں۔ جو شخص دریافت کے درجے میں خدا کو پائے، وہ ایک صاحبِ معرفت انسان بن جاتا ہے، اور جو انسان صاحبِ معرفت ہو، اس کے جذبات تمام تر خدا کے ساتھ وابستہ ہو جائیں گے۔ خدا اس کے قلب و دماغ کا واحد مرکز بن جائے گا۔ انسان اپنی محدودیت (limitations)کی بنا پر موجودہ دنیا میں خدا کو نہیں دیکھتا، لیکن وہ خدا کی رحمتوں (blessings) کا ہر آن تجربہ کرتا ہے، اور یہی تجربہ محبتِ الہی کا اصل سرچشمہ ہے۔ آدمی کو اس دنیا میں جو کچھ ملا ہوا، وہ سب کا سب خدا کی رحمت ہے۔ آدمی جتنا زیادہ ان ملی ہوئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page