Urdu book · معرفت الہی

معرفت الہی

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

چیزوں پر غور کرے گا، اتناہی زیادہ خدا کے ساتھ اس کی محبت بڑھتی چلی جائے گی۔ خدا سے محبت کا سرچشمہ انعام کی دریافت ہے، نہ کہ منعم کا مشاہدہ۔ انسان کو کس نے پیدا کیا، خدا نے۔ انسان کو مختلف قسم کی اعلیٰ صلاحیتیں کس نے دیں، خدا نے۔ انسان کے لیے زمین جیسا ایک استثنائی سیارہ کس نے بنایا، خدا نے۔ انسان کے لیے یہاں لائف سپورٹ سسٹم کس نے قائم کیا، خدا نے۔ انسان کی تمام حاجتوں کی تکمیل کا انتظام کس نے کیا، خدا نے۔ انسان کو وہ دماغ کس نے دیا جو زمین پر رہتے ہوئے ساری کائنات کا احاطہ کرسکتا ہے، خدا نے۔ انھیں تمام انعام (blessings) کے منعم (giver) کی دریافت کا نام معرفت ہے۔ کسی انسان کو جب یہ معرفت حقیقی معنوں میں حاصل ہو جائے تو اس کے اندر خدا سے محبت کا سرچشمہ اہل پڑتا ہے۔ اس کے دل کی گہرائیاں خدا کی محبت سے روشن ہو جاتی ہیں۔ خدا کی اطاعت بلا شبہہ ایمان کا تقاضا ہے، لیکن یہ خدا سے محبت کی تصغیر (underestimation) ہے کہ اُس کو صرف اطاعت کے معنی میں لیا جائے۔ اطاعت، خدا سے تعلق کا صرف ایک قانونی اظہار ہے، جب کہ محبت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا پورا وجود خدا کی یاد میں ڈھل گیا، انسان اپنی پوری ہستی کے ساتھ خدا کا اعتراف کرنے والا بن گیا۔ اعلیٰ معرفت ایک حدیث میں آیا ہے کہ : الدنیا سجن المؤمن وجنة الکافر (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 5256) یعنی دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور غیر مومن کے لیے جنت۔ اس حدیث کو عام طور پر مادی معنی میں لیا جاتا ہے، یعنی دنیا کی مادی چیزوں میں مومن کو سکون نہیں ملتا، جب کہ غیر مومن ان مادی چیزوں کو پا کر خوش ہو جاتا ہے۔ یا یہ کہ مومن کو شریعت کے نواہی (ممنوعات) میں جینا پڑتا ہے، جب کہ غیر مومن اپنے آپ کو اس قسم کی شرعی پابندیوں سے آزاد سمجھتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page