Urdu book · معرفت الہی

معرفت الہی

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

لیکن اس حدیث کا ایک اور مطلب ہے جو اعلیٰ معرفت سے تعلق رکھتا ہے۔ ایک مومن جب حقیقت کی دریافت کے اُس ارتقائی مرحلے پر پہنچتا ہے جہاں اُس کو اعلیٰ معرفت حاصل ہوتی ہے، اُس وقت دنیا اُس کے لیے ایسی ہوجاتی ہے جیسے کہ وہ ایک نفسیاتی قید خانے میں ہے، جیسے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں آگیا ہے جو اُس کے لیے بنائی نہیں گئی، جہاں اُس کی روحانی تسکین کا سامان موجود نہیں۔ ایسے مومن کو جب اعلیٰ معرفت حاصل ہوتی ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اُس کا وجود اس کا متحمل نہیں، اُس کے پاس وہ الفاظ نہیں جن کے ذریعے وہ اپنی عارفانہ دریافت کو بیان کر سکے، اس کے پاس ایسے سامعین نہیں جو اس کی باتوں کو سمجھ سکتے ہوں، اُس کے آس پاس وہ ماحول نہیں جہاں وہ اپنی معرفت کے ساتھ جی سکے۔ ایسا باشعور مومن ہر لمحہ یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ ایک قفس میں ہے، تمام چیزیں اس کو اپنی عارفانہ سطح کے اعتبار سے غیر موافق نظر آتی ہیں۔ یہی اعلیٰ کیفیت کسی انسان کے لیے جنت میں داخلے کا سرٹیفکٹ ہے۔ خدا جس انسان کو ایسی حالت میں پاتا ہے تو وہ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے کہ میرے اس بندے کو جنت میں داخل کردو، کیوں کہ جنت کو میں نے ایسے ہی بندوں کے لیے بنایا ہے۔ جنت ایسے ہی بندوں کے لیے ہے اور ایسے بندے صرف جنت کے لیے۔ معرفت الہیٰ خدا کی معرفت (realization of God) ایک شعوری دریافت ہے۔ خدا کی معرفت کسی کو اس طرح نہیں ہوسکتی کہ وہ اللہ، اللہ، اللہ کی لفظی تکرار کرے ، یا مراقبہ کر کے وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ دل کی ہر دھڑکن میں اس کو اللہ اللہ کی آواز سنائی دینے لگے۔ اس قسم کی چیزیں ایک غیر متعلق ورزش کی حیثیت رکھتی ہے، ان کا خدا کی معرفت سے کوئی تعلق نہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ: خلق الله آدم علی صورته (صحیح البخاری، حدیث نمبر: 6227) یعنی اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔ اسی کو لے کر ایک عربی مقولہ اس طرح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page