Urdu book · معرفت الہی

معرفت الہی

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

بیان کیا جاتا ہے : من عرف نفسہ فقد عرف ربہ، یعنی جس نے اپنے آپ کو پہچانا، اُس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔ یہ بات بلاشبہ بہت با معنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان جس طرح ایک انا (I) ہے، اُسی طرح خدا از یادہ بڑے پیمانے پر ایک انا ہے۔ یہ شعوری انا، ساری کائنات میں ایک استثنا کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ واقعہ انسان کی اپنی حیثیت کو بتاتا ہے اور اِسی کے ساتھ وہ خدا کے وجود کو بھی ثابت کرتا ہے۔ اس لیے کہ اگر اس کائنات میں انسان کی صورت میں ایک چھوٹا استثنا (small exception) موجود ہے تو یہ واقعہ اپنے آپ میں اِس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں ایک بڑا استثنا (big exception) بھی یقینی طور پر موجود ہے۔ انسان کا وجود لازمی طور پر خدا کے وجود کا ثبوت بن جاتا ہے۔ اِسی بات کو حدیث میں اِن الفاظ میں کہا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا، یعنی جس طرح خدا ایک استثنائی وجود ہے، اُسی طرح انسان بھی کائنات میں ایک استثنائی وجود کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان اگر اس استثنا کے ظاہر پر غور کرے تو وہ یقینی طور پر خدا کو دریافت کرلے گا، وہ پکار اٹھے گا کہ میں ہوں، اِس لیے یقینی طور پر خدا بھی موجود ہے : I am, therefore, God is. معرفت کا استحقاق ایک حدیث قدسی اِن الفاظ میں آئی ہے : الکبریاء ردائی، والعظمة إزاري، فمن نازعني واحداً منهما، فقذفته في النار (سنن أبي داؤد، رقم الحديث 4090)؛ یعنی اللہ نے فرمایا کہ ـــ کبریا ئی میری چادر ہے، اور عظمت میرا ازار ہے، ان دونوں میں سے کسی کے معاملے میں جو شخص مجھ سے نزاع کرے گا، میں اُس کو آگ میں پھینک دوں گا۔ اس حدیث قدسی سے تواضع (modesty) کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کے ساتھ انسان کی نسبت صرف حقیقی تواضع کی سطح پر قائم ہوتی ہے۔ انسان کے اندر اگر ایک ذرہ کے برابر بھی اپنی بڑائی کا احساس پایا جائے تو خدا سے اُس کی نسبت ہی نہیں قائم ہوگی، اور جس آدمی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page