Urdu book · معرفت الہی

معرفت الہی

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

من صمت نجا (مسند احمد، حدیث نمبر 6481) یعنی جو خاموش رہا، اس نے نجات پائی۔ وأن يكون صمتى فكراً (جامع الأصول، حدیث نمبر 9317) یعنی یہ کہ میری خاموشی غور وفکر کی خاموشی ہو۔ خاموش رہنا صرف خاموش رہنا نہیں ہے، خاموش رہنے کا مطلب ہے — سوچنا اور غوروفکر کرنا۔ ایک مومن جب خاموش رہے گا تو وہ اپنے رب کے بارے میں سوچے گا، اسی کا نام معرفت ہے۔ خاموشی معرفت کا دروازہ ہے۔ سچی خاموشی آدمی کو سچی معرفت تک پہنچاتی ہے۔ خاموشی آدمی کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ڈسٹریکشن (distraction) سے بچائے۔ وہ اپنے مشاہدات اور تجربات میں توجیہہ (explanation) کا اضافہ کرے ۔ وہ سادہ معلومات کو با معنی معلومات بنائے۔ وہ عالمِ ظاہر سے نکل کر عالم باطن کا سفر کرے۔ وہ نفسیات کی سطح پر خدا اور فرشتوں سے رابطہ (contact) قائم کرے ۔ یہ تمام چیزیں آدمی کی معرفت میں اضافہ کرتی ہیں۔ معرفت کا ذریعہ غوروفکر ہے، اور خاموشی کے بغیر غوروفکر کا عمل ممکن نہیں۔ خاموشی کسی انسان کو غیر خدا سے دور، اور خدا سے قریب کر دیتی ہے۔ خاموشی کسی انسان کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ پورے عالمِ وجود سے معرفت کی غذا حاصل کرے، اُس کا عارفانہ سفر غیر منقطع طور پر (non-stop) جاری رہے۔ ایک صحابی کی مثال مسلم بن بشیر کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ اپنی بیماری میں روئے ۔ اُن سے پوچھا گیا کہ اے ابو ہریرہ، کیا چیز آپ کو رلا رہی ہے ۔ انھوں نے کہا: میں تمھاری اس دنیا کے لیے نہیں روتا، بلکہ میں تو اس لیے روتا ہوں کہ میرا سفر لمبا ہے اور زادِ راہ کم ہے۔ میں نے ایک ایسے ٹیلے پر صبح کی ہے جو جنت اور جہنم کی طرف اتر رہا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ مجھ کو ان دونوں میں سے کس طرف چلایا جائے گا(بكى أبو هريرة في مرضه، فقيل له ما يبكيك يا أبا هريرة ـ قال، أما أنني، فلا أبكي على دنياكم هذه، ولكني أبكي لبعد سفري وقلة زادي ـ أصبحت في صعود

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page