معرفت الہی
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
مہبطۃ علی جنّۃ ونار، فلا أدري إلى أيهما يسلك بي۔ (الطبقات الكبرى لابن سعد، رقم الأثر 5699) صحابی رسول حضرت ابو ہریرہ کا یہ کلمہ اعلیٰ معرفت کا کلمہ ہے۔ جب انسان کی معرفت بڑھتی ہے تو اُس وقت اُؔس کا حال وہی ہو جاتا ہے جس کی ایک مثال صحابی رسول کے مذکورہ قول میں ملتی ہے۔ اعلیٰ معرفت کیا ہے ۔ اعلیٰ معرفت یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اس کی عظمت وجلال کے ساتھ دریافت کر لے۔ جب کوئی انسان اللہ کو اس کی عظمت وجلال کے ساتھ دریافت کرتا ہے تو اس کی نظر میں اس کا اپنا وجود بالکل حقیر بن جاتا ہے۔ وہ جنت کے مقابلے میں اپنے اعمال کو بے حقیقت سمجھنے لگتا ہے۔ وہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ اس کے پاس خدا کے دربار میں پیش کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ یہی احساس اس کو اُس آخری حد تک پہنچا دیتا ہے جس کی تصویر حضرت ابو ہریرہ کے مذکورہ قول میں نظر آتی ہے۔ ایک طرف، اللہ کا ارحم الراحمین ہونا، اُؔس کے اندر امید کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ دوسری طرف، اپنے عمل کی بے بضاعتی کو دیکھ کر وہ اس احساس میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ میں کسی بھی انعام کا مستحق نہیں۔ بے حس انسان صرف اپنے پلس پوائنٹ کو دیکھتا ہے اور حساس انسان کو صرف اپنا مائنس پوائنٹ دکھائی دیتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو عارف انسان کو غیر عارف انسان سے الگ کرتا ہے۔ معرفت کا سادہ فارمولا خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب کا قول ہے : عرفت ربی بفسخ العزائم (میں نے اپنے رب کو ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا)۔ یہ معرفت کا ایک ایسا فارمولا ہے جو ہر آدمی کو ہر وقت حاصل رہتا ہے۔ ہر عورت اور ہر مرد کو روزانہ ایسے تجربات ہوتے ہیں، جب کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ میں نے جو چاہا تھا، وہ نہیں ہوا، کبھی چھوٹا تجربہ اور کبھی بڑا تجربہ ۔ ایسا ہر تجربہ آدمی کو اس کی محدودیت (limitation) یاد دلاتا ہے۔ ایسا ہر تجربہ آدمی کو بتاتا ہے کہ چاہنا اس کے اختیار میں ہے، لیکن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader