معرفت الہی
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنے چاہنے کو تکمیل تک پہنچانا اُس کے اختیار میں نہیں۔ جب بھی آدمی کا ارادہ پورا نہیں ہوتا تو یہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہوتی ہے کہ انسان کی ایک حد (limit) ہے۔ جہاں آدمی کی حد آجاۓ اُس کو فوراً محسوس کرنا چاہیے کہ اس کے بعد خدا کی حد شروع ہوگئی، خواہ وہ ایک چھوٹا واقعہ ہو، مثلاً کسی چیز کا ہاتھ سے چھوٹ کر گرنا یا کوئی بڑا واقعہ، مثلاً کسی منصوبے کا اپنی خواہش کے مطابق پورا نہ ہونا۔ اگر آدمی کے اندر شعوری بیداری (intellectual awakening) آچکی ہو تو ایسے ہر موقع پر وہ خدا کو دریافت کرے گا، ایسا ہر موقع اس کے لیے خدا کی معرفت کے حصول کا ذریعہ بن جائے گا۔ یہ ایک سادہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ آدمی ہر وقت معرفت کی غذا لے سکتا ہے۔ خواہ وہ تعلیم یافتہ ہو یا غیر تعلیم یافتہ، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، خواہ وہ سند یافتہ ہو یا غیر سند یافتہ، اس قسم کا تجربہ ہر عورت اور مرد کوروزانہ بار بار پیش آتا ہے۔ اگر آدمی اپنے ذہن کو کھلا رکھے، اگر اُس کے اندر غور وفکر کی صلاحیت زندہ ہو تو وہ اپنی روزمرہ کی زندگی (daily life) میں ہر لمحہ ، معرفت کی خوراک حاصل کرتا رہے گا۔ اس کے دل و دماغ میں معرفت کا سر چشمہ مسلسل طور پر جاری رہے گا۔ عظمتِ انسانی وسیع خلا (space) میں بے شمار ستارے (stars) اور سیارے (planets) اور کہکشائیں (galaxies) ہیں۔ اس میں شمسی نظام (solar system) ہے جس میں بہت سے سیارے ہیں۔ اُن کے درمیان ایک استثنائی سیارہ ہے جس کو زمین کہا جاتا ہے ۔ اِس زمین پر لا تعداد مخلوقات ہیں ۔ اِن لا تعداد مخلوقات کے ہجوم میں انسان ہے جو انوکھی صفات کا حامل ہے۔ ایسی وسیع کائنات (vast universe) میں ایک انسان زمین پر کھڑا ہوتا ہے۔ وہ بول کر انسانی الفاظ میں کہتا ہے کہ ــــ خدایا، تو رب العالمین ہے۔ میں نے تیری تمام صفتوں کے ساتھ تیری کبریائی کا اعتراف کیا۔ میں تیرے آگے اپنے پورے وجود کے ساتھ سرینڈر کرتا ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader