معرفت الہی
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کے یہ الفاظ خلا میں گونجتے ہیں۔ ان کو کان والے بھی سنتے ہیں اور بغیر کان والے بھی۔ پھر ساری کائنات زبانِ حال سے پکار اٹھتی ہے ـــــ دیکھو، یہ انسان بھی کتنا قابلِ رشک ہے۔ ہماری تخلیق میں پہلے سے خدا کی معرفت موجود تھی، انسان نے خود اپنی کوشش سے خدا کو دریافت کیا۔ ہم بولے بغیر خدا کی حمد کر رہے تھے، یہ انسان بول کر خدا کی حمد کر رہا ہے۔ ہم مجبورانہ اطاعت پر قائم تھے، انسان نے اختیارانِ اطاعت پر اپنے کو قائم کیا۔ ہم غیر شعوری سطح پر خدا سے تعلق قائم کر پائے تھے، انسان شعور کی سطح پر دریافت کئے ہوئے الفاظ میں خالق کا نغمہ گاررہا ہے۔ ہم حالت مشہود میں خالق کا اقرار کر رہے تھے، انسان حالتِ غیب میں ہوتے ہوئے خالق کا اعتراف کر رہا ہے۔ ہم گویا مقلدانہ انداز میں خدا کی عبادت کر رہے تھے، انسان تخلیقی (creative) انداز میں خدا کا عبادت گزار بنا ہوا ہے۔ ہم زبانِ حال سے خدا کی بڑائی بیان کر رہے تھے، انسان زبانِ قال سے خدا کی بڑائی بیان کر رہا ہے۔ ہم محدود سطح پر خدا کی تسبیح کر رہے تھے۔ انسان لامحدود سطح پر خدا کی تسبیح کرنے والا بنا ہوا ہے۔ یہی اعلیٰ معرفت ہے۔ اس قسم کی شعوری معرفت ساری کائنات میں صرف انسان کو حاصل ہے۔ یہی وہ اعلیٰ معرفت والے لوگ ہیں جو جنت الفردوس میں داخل کئے جائیں گے۔ خدا اور جنت انسان کے اندر استثنائی طور پر فیکلٹی (faculty) پائی جاتی ہے ـــــ ایک، سوچنے کی فیکلٹی (faculty of thinking) اور دوسرے، محفوظ ہونے کی فیکلٹی (faculty of enjoyment)۔ یہ دونوں صلاحیتیں انسان کو استثنائی طور پر دی گئی ہیں۔ اگر آدمی ان دونوں صلاحیتوں کو درست طور پر استعمال کرے تو وہ ایک طرف خدا کے وجود کو دریافت کر لے گا اور دوسری طرف جنت کے وجود کو۔ سوچنا (thinking) انسان کی استثنائی صفت ہے۔ سوچنے کا ظاہر ہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کائنات میں ایک ایسی مخلوق موجود ہے جو استثنائی طور پر تفکیر (thinking) کی صلاحیت رکھتی ہے۔ فرانس کے مشہور فلسفی رینے ڈیکارٹ نے کہا تھا کہ میں سوچتا ہوں، اس لیے میں موجود ہوں: I think, therefore, I exist.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader