معرفت الہی
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ مفکرِ صغیر کا وجود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں مفکرِ کبیر بھی موجود ہے: The existence of small thinker is a proof of the existence of the big thinker. یہی معاملہ احساسِ تلذذ (sense of pleasure) کا ہے۔ انسان اگر غور کرے تو وہ دریافت کرے گا کہ وسیع کائنات میں وہ ایک انوکھا وجود ہے جو استثنائی طور پر لذت کا شعور (sense of pleasure) رکھتا ہے۔ اس حقیقت کی دریافت اپنے آپ میں ایک اور بڑی حقیقت کی دریافت ہے، وہ یہ کہ اس دنیا میں جب شعورِ لذت کا وجود ہے تو یقینی طور پر اس دنیا میں اس کے فل فل منٹ (fulfilment) کا سامان بھی ہونا چاہیے، کیوں کہ ہماری دنیا میں ہر چیز کی تکمیل کے لیے اس کا جوڑ موجود ہے۔ اس عام قانونِ فطرت کے مطابق، یقینی طور پر ایسا ہونا چاہیے کہ شعورِ لذت (sense of pleasure) کا جوڑ، یعنی فل فل منٹ بھی اس دنیا میں موجود ہو۔ یہ ظاہرۂ جنت کے وجود کا یقینی ثبوت ہے۔ معرفت کی قیمت ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ قیمت کی ادائیگی کے بغیر کسی کو اس کی مطلوب چیز نہیں ملتی۔ اسی طرح معرفتِ الہی کی بھی ایک قیمت ہے، اور وہ قیمت طالبِ معرفت کی خود اپنی ذات ہے۔ اس سے کم کوئی چیز معرفت کی قیمت نہیں بن سکتی۔ خدا کی معرفت کسی آدمی کو ہمیشہ اپنی نفی کی قیمت پر ملتی ہے۔ اپنی نفی نہیں تو خدا کی معرفت بھی نہیں۔ اپنی نفی کا مطلب نام نہاد قسم کی پر اسرار ورزشیں نہیں۔ یہ معاملہ تمام تر غور وفکر کے ذریعہ انجام پاتا ہے، نہ کہ روحانیت کے نام پر کچھ جسمانی ورزشوں کے ذریعے_ نفی خویش (self-negation) کیا ہے۔ نفیِ خویش یہ ہے کہ آدمی رب العالمین کو اس طرح دریافت کرے کہ اس کے مقابلے میں اُس کو خود اپنا وجود سراسر بے حقیقت نظر آنے لگے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader