Urdu book · معرفت الہی

معرفت کی قیمت

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

نفی خویش کا مزاج دراصل عجز، تواضع، اعتراف، محاسبہ، بے نفسی، خدا ترسی، جہنم کا خوف اور جنت کا اشتیاق، جیسی صفات کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ صفات متصوفانہ ریاضت کے ذریعے بیدار نہیں ہوتیں، بلکہ وہ ہمیشہ فکری عمل (thinking process) کے ذریعے کسی شخص کو حاصل ہوتی ہیں۔ نفی خویش کا عمل حقائق ربانی کی گہری دریافت کے بعد شروع ہوتا ہے، اور وہ زندگی کے آخری لمحے تک برابر جاری رہتا ہے۔ نفی خویش دراصل اپنی حقیقت واقعی کی دریافت کا دوسرا نام ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، انسان کچھ بھی نہیں ہے۔ ایک معمولی حادثہ اُس کے لیے نا قابلِ برداشت بن جاتا ہے۔ کسی بھی چیز کا علم اس کو یقین کے درجے میں حاصل نہیں۔ انسان ہر لمحہ خارجی اسباب کا محتاج ہے۔ انسان کے وجود کا کوئی بھی حصہ کسی بھی وقت اپنا فطری کام کرنا بند کر سکتا ہے۔ انسان نہ اپنی زندگی کی حقیقت کو جانتا اور نہ اپنی موت کی حقیقت کو جانتا۔ انسان بہت سی چیزیں چاہتا ہے، لیکن کسی بھی چیز پر اُسے کوئی قدرت حاصل نہیں۔ انسان بظاہر آزاد ہے، لیکن ارادہ (will) کے سوا ہر اعتبار سے، وہ مجبور ہے۔ انسانی وجود کے ان تمام پہلوؤں کے شعور ہی کا دوسرا نام نفی خویش ہے، اور یہی نفی خویش معرفت کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ نفی خویش ایک اعتبار سے، خدا کو قادر مطلق کی حیثیت سے دریافت کرنے کا نام ہے، اور دوسرے اعتبار سے، اپنے آپ کو عاجز مطلق کی حیثیت سے دریافت کرنے کا نام۔ معرفت کا دروازہ معرفت کا تعلق مفروضہ قسم کے رومانی عشق سے نہیں ہے۔ معرفت کا تعلق اس بات سے ہے کہ آدمی گہرائی کے ساتھ یہ محسوس کرنے لگے کہ اس کا مستقبل تمام تر صرف ایک اللہ سے وابستہ ہے۔ اس کی محبوب جنت صرف اللہ کے دینے سے ملے گی۔ اسی طرح مبغوض جہنم سے نجات بھی اسی وقت ممکن ہوگی جب کہ اللہ اس کو اس سے نجات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page