Urdu book · معرفت الہی

معرفت الہی

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

دے۔ کسی آدمی کے اندر جب اس قسم کا گہرا شعور پیدا ہو جائے تو اس کے بعد ہی ایسا ہوتا ہے کہ اس کے اوپر معرفت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ معرفت کوئی فلسفیانہ تصور نہیں۔ معرفت لازمی طور پر ہر آدمی کے ذاتی انٹرسٹ سے جڑی ہوئی ہے۔ اعلیٰ معرفت کا حصول صرف اُس وقت ممکن ہوتا ہے کہ آدمی ایک طرف فکری سطح پر معرفت کو دریافت کرے۔ نظریاتی اعتبار سے آدمی یہ جان لے کہ معرفت کے سوا کوئی اور چیز اس کی حقیقی منزل نہیں بن سکتی۔ آدمی کا ذہن پوری طرح اس کی صداقت پر مطمئن ہو جائے۔ دوسری طرف یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی کا ذاتی انٹرسٹ مکمل طور پر معرفت کے ساتھ وابستہ ہو جائے۔ اس معاملے میں اس کی دریافت اتنی زیادہ بڑھے کہ وہ شدت کے ساتھ محسوس کرنے لگے کہ معرفت کے حصول کے بغیر اس کا وجود بے معنی ہو جائے گا، اس کی زندگی اجڑ جائے گی، اس کے لیے مستقبل کے تمام امکانات ختم ہو جائیں گے، وہ ہر اعتبار سے ناکام و نامُراد انسان ہو کر رہ جائے گا۔ جب آدمی کا یہ حال ہو کہ اس طرح وہ فکری اور عملی دونوں اعتبار سے، آخری حد تک معرفت کا طالب بن جائے تو اس کے فوراً بعد یہ ہوتا ہے کہ اس کے اوپر معرفت کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں، یہاں تک کہ معرفت کا کوئی بھی دروازہ اُس پر بند نہیں رہتا۔ یہی معرفت کا راستہ ہے۔ اس کے سوا کسی اور راستے سے معرفت کی منزل تک پہنچنا ممکن نہیں۔ اعلیٰ معرفت اگر تمام انسانوں میں کوئی ایک شخص ہے جو اعلیٰ معرفت تک پہنچا ہے تو وہ میں ہوں۔ اور اگر تمام انسانوں میں کوئی ایک شخص ہے جو اعلیٰ معرفت سے محروم رہا تو وہ میں ہوں — یہ احساس اس انسان کا ہوتا ہے جو اعلیٰ معرفت کے درجہ تک پہنچے۔ اعلیٰ معرفت تک پہنچنا ممکن ہے مگر کوئی بھی شخص یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے اعلیٰ معرفت کا درجہ حاصل ہوا ہے۔ اس بے یقینی کا سبب یہ ہے کہ معرفت کسی خارجی کورس کا نام نہیں ہے کہ اس کو پورا کر کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page