اعلیٰ معرفت
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی سمجھ لے کہ میں نے معرفت کا کورس کر لیا اس لیے اب میں معرفت تک پہنچ گیا۔ معرفت تمام تر ایک داخلی حالت کا نام ہے۔ اور داخلی حالت کے بارے میں کوئی فیصلہ دینا صرف خداوند عالم الغیب کے لیے ممکن ہے۔ کوئی انسان حتیٰ کہ خود طالب معرفت بھی اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ خدا کی اعلیٰ معرفت دراصل خدا کی اعلیٰ دریافت کا نام ہے۔ جب کوئی بندہ اس اعلیٰ دریافت تک پہنچتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ خدا کے مقابلے میں اس کی حیثیت تمام تر صفر (zero) کی ہو گئی ہے ۔ خدا سب کچھ ہے اور وہ خود کچھ بھی نہیں۔ یہ دریافت اس کو بتاتی ہے کہ اس معاملے میں فیصلہ کا سارا اختیار صرف خدا کو ہے، فیصلہ میں اس کا اپنا دخل کچھ بھی نہیں۔ یہ دریافت اس کو بتاتی ہے کہ سارا معاملہ تمام تر یک طرفہ (unilateral) ہے۔ صاحب معرفت کون ہے۔ صاحب معرفت صرف وہ انسان ہے جس کو خدا صاحب معرفت قرار دے۔ اور خدا فیصلہ کے دن (Day of Judgement) سے ایک سیکنڈ پہلے بھی کسی کو کچھ نہیں بتاتا۔ یہی وجہ ہے کہ صاحب معرفت اپنی طرف سے سب کچھ کرنے کے باوجود اس معاملے میں آخر وقت تک مکمل طور پر ایک قسم کی بے یقینی (uncertainty) کے احساس میں مبتلا رہتا ہے۔ معرفت کی راہ میں رکاوٹ ایک امریکن اسکالر نے اسلام کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد اس نے اسلام پر ایک کتاب لکھی۔ اپنی اس کتاب میں اس نے لکھا ہے کہ ــ اسلام کا سب سے بڑا کنسرسن اللہ ہے: The greatest concern of Islam is Allah. یہ نہایت درست بات ہے۔ معرفت کا دروازہ صرف اُس کے لیے کھلتا ہے جو ایک اللہ کو اپنا سول کنسِرن (sole concern) بنالے۔ اِسی طرح معرفت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اپنا واحد کنسِرن نہ بنا سکے۔ معرفت کے سلسلے میں بلاشبہ یہی سب سے زیادہ اہم بات ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader