اعلیٰ معرفت
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
اصل یہ ہے کہ کوئی آدمی جس چیز کو اپنا واحد کنسرن بنائے، وہی چیز اس کی سوچ کا مرکز بن جاتی ہے۔ وہ اُسی چیز کی یاد کو لے کر سوتا ہے اور اسی چیز کی یاد کو لے کر جاگتا ہے۔ وہ چیز آدمی کے دماغ پر اتنا زیادہ چھا جاتی ہے کہ عملاً دوسری تمام چیزیں اس کی یاد سے حذف ہو جاتی ہیں۔ آدمی اسی موضوع پر سوچتا ہے۔ وہ اسی کا چرچا کرتا ہے۔ وہ اسی کے بارے میں پڑھتا ہے۔ وہ اسی کے بارے میں ڈسکشن (discussion) کرتا ہے۔ آدمی کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ اسی چیز کی یاد سے اس کو سکون ملتا ہے۔ وہ اکیلے میں بھی اسی چیز کی بابت سوچتا ہے اور جب وہ لوگوں کے درمیان ہوتا ہے تب بھی وہ اسی کا چرچا کرتا ہے۔ یہی کسی چیز کو اپنا واحد کنسرن بنانا ہے۔ اور خدا کی معرفت صرف اس انسان کے لیے مقدر ہے جو اسی معنی میں خدا کو اپنا واحد کنسرن بنا لے ۔ جو شخص اس معنی میں خدا کو اپنا واحد کنسرن نہ بنا سکے ، وہ یقینی طور پر خدا کی معرفت سے محروم رہے گا۔ خواہ زبانی طور پر وہ اللہ کا نام لے ، وہ تسبیح کے دانوں پر الحمد للہ اور سبحان اللہ کا لفظی وظیفہ پڑھتا رہے۔ معرفت کے حصول میں اصل رکاوٹ یہ ہے کہ آدمی خدا کے سوا کسی اور چیز کو اپنا بڑا بنا لے۔ کسی کو بڑا بنانے کا یہ کام کبھی شعوری طور پر ہوتا ہے اور کبھی غیر شعوری طور پر، مگر نتیجہ دونوں کا ایک ہے، اور وہ ہے خدا کی اعلیٰ معرفت سے محرومی۔ جس عورت یا مرد کو خدا کی اعلیٰ معرفت مطلوب ہو، اس کو بہر حال یہ قیمت دینی پڑے گی۔ اس کو بہر حال یہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنی توجہ کو دوسری چیزوں سے ہٹائے اور صرف ایک اللہ کو اپنا واحد مرکزِ توجہ بنا لے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ، یہ ایک نفسیاتی قربانی ہے۔ جو شخص یہ قربانی دے، اُسی کو وہ ربانی نعمت ملتی ہے جس کو معرفت کہا جاتا ہے۔ معرفت کا تجربہ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے ، میں سورج کی روشنی میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔ اچانک ایک لمحے کے لیے ایسا محسوس ہوا جیسے میں خدا کے دیکھنے کو دیکھ رہا ہوں، میں خدا کے دیکھنے کا تجربہ کر رہا ہوں۔ اس کے بعد اچانک مجھ کو خیال آیا کہ خدا بھی تو اسی طرح دیکھتا ہوگا۔ اُس وقت ایسا محسوس ہوا جیسے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader