Urdu book · معرفت الہی

اعلیٰ معرفت

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

میں خدا کے دیکھنے کو دیکھ رہا ہوں۔ اسی طرح میں نے ایک بار کسی کے بولنے کو سنا۔ اُس وقت مجھے خیال آیا کہ خدا بھی تو اسی طرح بولتا اور سنتا ہوگا۔ اس طرح ایک بار میں نے کسی بات کو سوچا، اُس وقت مجھے محسوس ہوا کہ خدا بھی تو اسی طرح سوچتا ہوگا، وغیرہ۔ ایک دن صبح کو فجر کی نماز کے بعد میں اپنے کمرے میں کرسی پر بیٹھا تھا۔ اُس وقت یہ تمام تجربات مجھے یاد آنے لگے۔ اچانک شدتِ احساس کے ساتھ میں چیخ اُٹھا۔ تھوڑی دیر کے لیے میں ایک اور دنیا میں پہنچ گیا۔ اس تجربے کو قریب تر الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے— مجھے ایسا لگا جیسے کہ میں اپنے وجود کی صورت میں بلا تشبیہہ خدا کی موجودگی (presence) کو محسوس کر رہا ہوں۔ میں خدا کے دیکھنے کو دیکھ رہا ہوں، میں خدا کے سننے کو سن رہا ہوں، میں خدا کے سوچنے کا تجربہ کر رہا ہوں۔ اُس وقت ایسا محسوس ہوا جیسے میرا وجود بلا تشبیہہ خدا کے وجود میں ڈھل گیا۔ اُس وقت خدا میرے لیے اتنا ہی یقینی وجود بن گیا، جتنا کہ مجھے خود اپنا وجود یقینی معلوم ہوتا ہے۔ ابن عربی کے اس شعر کو اگر وحدتِ وجود کے معنی میں نہ لیا جائے، جو کہ ایک باطل نظریہ ہے، تو غالباً وہ اسی قسم کے ربانی تجربے کا ایک بیان ہوگا: العبد عبد، ولو ترقى والرب رب، ولو تنزل اس طرح کے تجربات مختلف احوال کے درمیان مجھے بار بار پیش آتے ہیں۔ یہ تجربات میرے لیے خدا کی معرفت کو اُس سطح پر دریافت کرنے کے ہم معنی ہوتے ہیں جس کو قرآن میں بصیرت (75:14) کہا گیا ہے۔ انسان کو خدا نے قدرت (omnipotence) کے سوا اپنی تمام صفات بشری سطح پر دے دیں، تا کہ انسان خدائی صفات کو بشری تجربات کی سطح پر سمجھ سکے۔ وہ خدا کے دیکھنے کو دیکھے، وہ خدا کے سننے کو سنے، اور پھر کامل یقین کے درجے میں وہ خدا کا عارف بن جائے۔ معرفت کی تمثیلات کائنات معرفت کا ایک عظیم دفتر ہے۔ کائنات کی ہر چیز معرفت کی ایک داستان ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page