Urdu book · معرفت الہی

اعلیٰ معرفت

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

ذریعہ بن سکتی ہیں۔ معرفت کا تعلق شعوری دریافت سے ہے۔ جب ایک شخص غوروفکر کے ذریعہ اپنے خالق کو دریافت کرتا ہے تو اس کو فکر کی سطح پر ایک ربانی دریافت ہوتی ہے۔ اسی کو معرفت کہا جاتا ہے۔ معرفت کو دوسرے الفاظ میں ذہنی ارتقا (intellectual development) کہا جاسکتا ہے۔ ذہنی ارتقا اگر خالص فطری انداز میں ہو تو وہ لازماً آدمی کو اپنے خالق کی دریافت تک پہنچائے گا، اور خالق کی شعوری دریافت ہی کا دوسرا نام معرفت ہے۔ وجد (ecstasy) اس کے برعکس، کوئی شعوری چیز نہیں، وہ ایک کیفیاتی حالت ہے۔ اس قسم کی کیفیت مختلف چیزوں سے پیدا ہوسکتی ہے، مذہبی چیز سے بھی اور غیر مذہبی چیز سے بھی۔ معرفت آدمی کے اندر سوچ اور فکر کی صلاحیت کو جگاتی ہے، مگر وجد کے ذریعے صرف یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر ایک سرور کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ آدمی کچھ دیر کے لیے اپنے آپ کو بے فکری کی حالت میں محسوس کرنے لگتا ہے۔ وجد کسی آدمی کو ایک مبہم قسم کا سرور تو ضرور دے سکتا ہے، لیکن وجد کسی آدمی کے اندر ذہنی اور روحانی ارتقا کی صفت پیدا نہیں کرسکता۔ معرفت کسی آدمی کے اندر فکری بیداری پیدا کرکے اس کو اپنے رب سے ملا دیتی ہے، جب کہ وجد کسی آدمی کو صرف اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے آپ میں گم رہے، وہ اپنے سے باہر کسی حقیقت کا ادراک نہ کر سکے۔ معرفت کسی آدمی کی بصیرت میں اضافہ کرتی ہے، جب کہ وجد آدمی کو بے خبری کے سوا کہیں اور پہنچانے والا نہیں۔ معرفت ایک شعوری واقعہ ہے، اور وجد صرف ایک وجدانی کیفیت۔ معرفت اور دعا دعا ایک عارفانہ روح سے نکلتی ہے۔ معرفت کے بغیر دعا صرف تکرارِ الفاظ ہے۔ عارفانہ دعا ہی حقیقی معنی میں دعا ہے۔ جو دعا معرفت سے خالی ہو، اس کی حیثیت صرف ایک قسم کی لب سروس (lip service) کی ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ دعا ایک عبادت ہے، اور حقیقی عبادت وہی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page