فریب پر حماقت کا اضافہ
Urdu book, p. 108
By Maulana Wahiduddin Khan
زور و شور کے ساتھ پیش کرتا ہے کہ ''روس میں مکمل آزادی ہے‘‘۔ بلکہ اس کا تو دعویٰ ہے کہ روس کے بیس کروڑ عوام تاریخ میں وہ پہلے عوام ہیں جو حقیقی معنوں میں آزاد ہوئے ہیں۔ پھر کس بنیاد پر آپ ایک ہی شخص کے دعوئی کو ایک معاملہ میں صحیح تسلیم کرتے ہیں اور دوسرے معاملے میں اس کو جھوٹا قرار دیتے ہیں۔ اور اگر روس کی فراہم کردہ معلومات پر آپ کے دعویٰ کی بنیاد نہیں ہے تو کیا زائرین روس کے بیانات اس کا ماخذ ہیں مگر زائرین روس کے بیانات میں زبردست تضاد ہے۔ کمیونسٹ نواز سیاح اگر یہ کہتے ہیں کہ وہاں معاشی جنت بسی ہوئی ہے تو اس کے مخالفین کا بیان اس کے بالکل برعکس ہے۔ پھر آپ کسے تسلیم کریں گے۔ کیا آپ نے روس جا کر وہاں کے باشندوں سے براہ راست معلومات حاصل کی ہیں۔ لیکن جب آپ خود وہاں سیاسی جبر کو تسلیم کرتے ہیں تو آپ کیسے یقین کرتے ہیں کہ وہاں کا کوئی باشندہ آپ سے ایسی باتیں کہے گا جو حکومت کے اعلان کردہ پالیسی کے خلاف ہو۔ کمیونسٹ ملکوں میں زبان کی آزادی نہیں ہے، اس لیے وہاں کی ہر اطلاع سرکاری اطلاع ہوتی ہے۔ روس میں جو لوگ سیاحت کی غرض سے جاتے ہیں، وہ جب سرکاری انتظام کے تحت حکومت کے ترجمان کے ذریعہ وہاں کے کسی باشندہ سے گفتگو کرتے ہیں تو وہ ہمیشہ اپنے ملک کی تعریف میں قصیدے سناتا ہے۔ مگر دوسری طرف صرف کمیونسٹ ممالک ہی دنیا میں ایسے ملک ہیں جہاں سے ہزاروں لاکھوں باشندے بھاگ بھاگ کر مستقل طور پر باہر کے ملکوں میں پناہ لے رہے ہیں اور اپنے ملک کے بارے میں ایسے ہولناک واقعات کا انکشاف کرتے ہیں جس کا تصور بھی آدمی کو لرزانے ؎ یہاں ایک واقعہ کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا جو اس وقت پیش آیا جب ہندوستان کے دوسرے عام الیکشن سے پہلے کمیونسٹ پارٹی ملک کی بدحالی اور حکومت کی نالائقی کا حوالہ دے کر اپنے لیے ووٹ مانگ رہی تھی۔ جنوری ۱۹۵۷ء میں کلکتہ کی ایک پریس کانفرنس میں کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری مسٹر اجے گھوش سے پوچھا گیا ‘‘کیا چین کے وزیر اعظم مسٹر چو این لائی کی ان تقریروں سے آئندہ انتخابات پر کوئی اثر پڑے گا جس میں انھوں نے موجودہ حکومت کی تعریف کی ہے اور ملک کی ترقیوں کا اعتراف کیا ہے‘‘ تو انھوں نے جواب دیا کہ ’’ہم ملک کا حال زیادہ جانتے ہیں نہ کہ ایک غیر ملکی جو ہمارے ملک میں صرف چند دن کے لیے آئے‘‘۔ ___ غیر ملکی سیاح اگر ہندوستان کو ترقی یافتہ کہیں تو اس سے ہندوستان کی ترقی ثابت نہیں ہوتی مگر اسی قسم کے کچھ لوگ روس کا قصیدہ پڑھیں تو اس سے وہاں کی ترقی ثابت ہو جاتی ہے۔ یہ ہے کمیونسٹ منطق۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader