فریب پر حماقت کا اضافہ
Urdu book, p. 109
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لیے کافی ہے۔ ایسی حالت میں کون سی بات مانی جائے اور کون سی بات نہ مانی جائے۔ مہاتما گاندھی نے صحیح کہا تھا کہ جس ملک میں لوگ شخصی آزادی اور تحریر و تقریر کی آزادی سے محروم ہوں وہاں یہ پتہ چلانا ناممکن ہو جاتا ہے کہ لوگ فاقہ سے نہیں مر رہے ہیں۔ اس موقع پر میں ان مغالطہ آمیز معلومات کا تجزیہ نہیں کروں گا جو روس کی ترقی ثابت کرنے کے لیے عموماً پیش کی جاتی ہے۔ میں اس سے بحث نہیں کروں گا کہ روس پر کتابیں لکھنے والے بیشتر مصنف اس کی مشینوں ، فیکٹریوں، گندھک کے تیزاب اور ٹریکٹروں کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ انھیں ذکر کپڑے، مکان، اناج اور مکھن کا کرنا چاہئے۔ وہ ان دونوں قسم کی چیزوں کو خلط ملط کر دیتے ہیں۔ حالانکہ ان دونوں کی نوعیت جداگانہ ہے اور یہ ضروری نہیں کہ ان میں سے ایک کی موجودگی لازمی طور پر دوسری نوع کی چیزوں کی فراوانی کا سبب بنے۔ میں اس کا ذکر بھی نہیں کروں گا کہ اشتراکی ملکوں میں ترقیاتی منصوبوں کی قبل از وقت کامیابی کی داستان کس طرح محض دھوکا ہے۔ کیوں کہ پر جا سوشلسٹ لیڈر آچاریہ کر پلانی کے بقول’’منصوبوں کی کامیابی کا دار و مدار تو اچھے سکریٹریوں پر ہوتا ہے جو اعداد و شمار کے گورکھ دھندے کی مدد سے منصوبہ کو کامیاب بنا دیتے ہیں‘‘۔ میں اس کا بھی ذکر نہیں کروں گا کہ روس میں اجرتوں کی بڑی بڑی شرحیں جن کا اعلان بڑے زور و شور سے ہوتا رہتا ہے، اس وقت کتنی بے معنی ہو جاتی ہیں جب ان کا مقابلہ وہاں ضروریات زندگی کی بے انتہا بڑھی ہوئی قیمتوں سے لگایا جائے ۔ میں اس کا بھی ذکر نہیں کروں گا کہ اشتراکی ملکوں میں وزراء اور بڑے عہدیداروں کے بارے میں بہت کم تنخواہ لینے کا پروپیگنڈا اس وقت سرتا پا جھوٹ معلوم ہوتا ہے، جب اس حقیقت پر نظر ڈالی جائے کہ تنخواہ کے نام پر تو ضرور بعض اوقات وہ ایک معمولی رقم لیتے ہیں مگر قیمتی الاؤنس اور خوراک اور رہائش وغیرہ کے مفت انتظام کے ذریعہ وہ سب کچھ حاصل کر لیتے ہیں جو کسی بورژوا ملک کے وزراء اور عہدیداران کو دیا جاتا ہے۔ میں اس کا بھی ذکر نہیں کروں گا کہ محض چند تقریروں اور مضامین کے ذریعہ کسی طرح کسی ملک کے واقعی حالات کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح کی تحریریں تو ہر ملک کے بارے میں فراہم کی جاسکتی ہیں۔ میں اس سے بھی بحث نہیں کروں گا کہ اشتراکی ملکوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader