Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

فریب پر حماقت کا اضافہ

Urdu book, p. 110

By Maulana Wahiduddin Khan

میں عام پبلک کی خوش حالی کی داستان ہمیشہ اوسط اعداد و شمار کی شکل میں پیش کی جاتی ہے، حالانکہ اوسط اعداد و شمار سے عام پبلک کی خوش حالی ثابت کرنا ایک فریب کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ بنیادی اصول: یہ تمام بحثیں دراصل بعد کی بحثیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ معاشی بہتری اور خوش حالی کے بارے میں ان دعوؤں کی نظریاتی توجیہہ کیا ہے۔ روس یا دوسرے اشتراکی ممالک یہ دعویٰ کیوں کرتے ہیں کہ جو مسئلہ دوسرے ملکوں میں حل نہ ہو سکا وہ ان کے یہاں حل ہو گیا ہے۔ اشتراکی ملکوں کی وہ کون سی خصوصیت ہے جو انہیں سرمایہ دار ممالک سے ممتاز کرتی ہے۔ یہ خصوصیت اجتماعی ملکیت کا نظام ہے۔ کمیونسٹ حضرات کا یہ دعویٰ ہے کہ اشتراکی ملکوں میں اور خاص طور پر روس میں انھوں نے سوشلزم کو قائم کر لیا ہے۔ اور خوش حالی کے جو افسانے نشر کیے جاتے ہیں وہ سب دراصل اسی کے نتائج یا اسی دعوے کی دلیلیں ہیں۔ ہم یہاں اسی اصل دعوے کی بابت گفتگو کریں گے۔ یہ صورتِ حال جو ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ غریب اور کچھ لوگ امیر بنے ہوئے ہیں، اس کی وجہ کیا ہے۔ مارکسزم کے نزدیک اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ انسانی محنت کی پیدا اور جو خود محنت کرنے والے کو ملنی چاہئے، وہ دوسروں کو مل جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، افلاس کا سبب یہ ہے کہ آدمی جتنا کماتا ہے وہ پورا اسے نہیں ملتا۔ اور امارت کا سبب یہ ہے کہ آدمی کی کمائی کے اس بقیہ حصہ کو کچھ لوگ مفت میں ہڑپ کر لیتے ہیں۔ مثلاً بہت سے لوگ کارخانہ اور زرعی فارم قائم کرتے ہیں اور ان سے بڑے بڑے نفع حاصل کرتے ہیں۔ یہ نفع دراصل ان مزدوروں کی مزدوری کاٹ کر حاصل کیا جاتا ہے جو ان میں کام کرتے ہیں۔ مارکس کے الفاظ میں’’ مزدوروں کی مزدوری جو غصب کی جاتی ہے وہی نفع کہلاتی ہے۔‘‘ مارکس کے اسی نظریہ کو’’ قدرِ زائد‘‘ کا نظریہ کہا جاتا ہے۔ جس کے ذریعہ وہ اس بات کی تشریح کرتا ہے کہ سرمایہ دارانہ سماج میں ایک طرف افلاس اور دوسری طرف دولت کی فراوانی کیوں کر پیدا ہوتی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ کوئی تیار شدہ چیز جو ایک مخصوص قیمت پر بازار میں بکنے آتی ہے، اس کی قیمت کا انحصار صرف دو قسم کی چیزوں پر ہے۔ اولاً کچا مال اور مشین و آلات وغیرہ اور دوسرے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page