فریب پر حماقت کا اضافہ
Urdu book, p. 111
By Maulana Wahiduddin Khan
محنت کی قوت پیدا اور جس کا بلحاظ وقت تعین ہوتا ہے۔ اس تصور کے مطابق، کسی چیز میں جو قیمت پیدا ہوتی ہے۔ اس کا سبب قدرتی اشیاء کے بعد وہ انسانی محنت ہے جو اس کے بنانے پر صرف ہوتی ہے۔ اس لیے کسی چیز کی تیاری اور تنظیم میں سرمایہ دار کا ذہن جو کچھ کام کرتا ہے اور اس کو قابل منفعت بنانے کے لیے وہ کارخانہ سے باہر جو کوشش انجام دیتا ہے، مارکس کے نزدیک وہ ’’محنت‘‘ میں شامل نہیں ہے۔ محنت صرف وہ چیز ہے جس کو مزدور خرچ کرتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کسی تیار شدہ چیز کی فروخت سے جو قیمت حاصل ہو، اصولی اعتبار سے اس کو صرف مزدور اور اس میں لگی ہوئی قدرتی اشیاء کی طرف لوٹنا چاہئے۔ سرمایہ دار کا اس میں کچھ حصہ نہیں ہونا چاہئے۔ مثلاً کپڑے کی ایک گانٹھ ساڑھے چار سو میں فروخت ہوتی ہے۔ فرض کیجئے کہ اس میں کچا مال، ایندھن، مشینری، عمارت کا کرایہ وغیرہ کی صورت میں دو سو روپے لگے ہیں اور دو سو روپے مزدوروں کو اجرت کے طور پر دیئے گئے ہیں۔ اس طرح اس کی لاگت چار سو روپے ہوئی۔ مگر اس کو ساڑھے چار سو روپے میں بیچ کر جو مزید پچاس روپے حاصل کیے گئے وہ کہاں سے آئے؟ مارکس کہتا ہے کہ یہ روپیہ بھی مزدوروں ہی کا حصہ تھا مگر سرمایہ دار نے ان کی اجرت میں کمی کر کے پچاس روپے بچا لیے اور منافع کے نام سے اس پر خود قبضہ کر لیا۔ یہی وہ ’’قدر زائد‘‘ ہے جس کی وجہ سے سرمایہ دار طبقہ کے پاس سرمایہ کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔ سرمایہ دار کو لوٹ کا یہ موقع ملکیتی نظام میں ملتا ہے جس میں پیداوار کے ذرائع افراد کے قبضہ میں ہوتے ہیں۔ اس لیے مارکس کی تشخیص ہے کہ ذرائع پیداوار کو اجتماعی ملکیت بنا دیا جائے۔ یعنی جو پیدا وار تیار کرے وہی اس کا مالک بھی ہو تاکہ پورا منافع اسی کو ملے، نہ کہ کسی دوسرے کو۔ نظریہ قدر زائد کے مطابق، سرمایہ دار کارخانہ سے جو منافع لیتا ہے وہ ’’قانونی ڈاکو زنی‘‘ ہے۔ فرسٹ انٹرنیشنل کا تیسرا اجلاس ستمبر ۱۸۶۸ء میں برسلز میں ہوا۔ اس میں ایک قرارداد ’’مزدور کی پیداوار مزدور کے لیے‘‘ پاس ہوئی تھی جو حسب ذیل ہے: ’’ہر وہ سماج جو کہ جمہوری اصولوں پر قائم ہو، سرمایہ کے ہر تصرف کو نا جائز قرار دیتا ہے۔ چاہے وہ تصرف کرائے کی شکل میں ہو، سود کی شکل میں ہو، منافع کی شکل میں ہو، چاہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader