Urdu book · مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے

مارکسزم کیا ہے؟

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

اٹھا سکتا ہے، یہ عالمِ فطرت کے اٹل قوانین ہیں، جن میں کبھی فرق واقع نہیں ہوتا۔ وہ اپنے آپ قائم ہیں اور ہمیشہ قائم رہیں گے۔ جس طرح انسان کی پیدائش ایک ایسے قانون طبعی کے تحت ہوتی ہے، جس پر اسے کوئی اختیار نہیں ہے۔ اسی طرح سماج کے بدلنے کے قوانین ’’ناگزیر تاریخی وجوب‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پہلے جو کچھ ہوا وہی ہو سکتا تھا اور آئندہ جو کچھ ہونے والا ہے وہ ہو کر رہے گا۔ انسان اپنے ارادہ سے اس میں ردّ و بدل نہیں کر سکتا۔ دوسرے یہ کہ یہ قانون لازمی طور پر ارتقاء کا قانون ہے۔ یعنی سماج کا یہ سفر محض ایک مسلسل گردش نہیں ہے بلکہ وہ ارتقائی سفر ہے جس میں ہر اگلا دور اپنے پچھلے دور سے ترقی یافتہ ہوتا ہے۔ سماج کبھی پیچھے کی طرف نہیں لوٹتا بلکہ ہمیشہ آگے کی طرف جاتا ہے۔ اس کا حال اس کے ماضی سے بہتر ہے اور اس کا مستقبل اس کے ماضی اور حال دونوں سے بہتر ہوگا۔ تیسرے یہ کہ انسان کی جو حیثیت مادی کائنات کے مقابلہ میں ہے۔ ٹھیک وہی حیثیت سماج کے مقابلہ میں بھی ہے۔ مادی دنیا کا اپنا ایک قانون ہے جس کے مطابق، اس کے تمام مظاہر واقع ہوتے ہیں۔ انسان اس میں تبدیلی نہیں کر سکتا۔ البتہ اس کا قانون معلوم کر کے استعمال کر سکتا ہے۔ دریا کا بہاؤ طوفان لاتا ہے اور تباہی پیدا کرتا ہے۔ انسان اگر پانی کی سائنس معلوم کر لے تو وہ بند بنا کر اس سے آب پاشی کا کام لے سکتا ہے، اس سے بجلی پیدا کر سکتا ہے اور دوسرے بہت سے فائدے حاصل کر سکتا ہے۔ یہی حال انسانی سماج کا بھی ہے۔ اس کا بھی اپنا ایک قانون ہے جس کے تحت وہ حرکت کرتا ہے مگر یہ حرکت سیاروں کی حرکت کی طرح نہیں ہے جس کے مقابلہ میں انسان بالکل بے بس ہو، بلکہ دریا کے بہاؤ کی طرح ہے، جس پر آدمی قابو پا سکتا ہے اور اپنی کوشش سے اس کے رخ کو پھیر سکتا ہے۔ سماجی ارتقاء کے بارے میں مارکس کی دریافت کردہ سائنس کے یہ قوانین ہیں جن کو مارکس نے انسانی تاریخ کے واقعات پر چسپاں کیا ہے اور اس سے نتائج برآمد کرنے کی کوشش کی ہے، اب سے پہلے جو انسانی معاشرے تاریخ میں پائے گئے ہیں، مارکس نے ان کا تجزیہ کر کے بتایا کہ ان کی شکل کیا تھی اور کس طرح وہ اس کے نظریہ کی تائید کرتے ہیں اور پھر اس نظریہ کے مطابق آئندہ انسانی سماج

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page